بی بی! چھوڑ پھینک بچی کو اپنی جان بچا

مصنف کی تفصیلات

مصنف: ع غ جانباز
قسط: 31

یہ بھی پڑھیں: بہاولپور میں شوہر نے مبینہ طورپردوسری بیوی کے ساتھ مل کر پہلی کو قتل کردیا

بھگوراں گاؤں والوں کی کہانی

بھگوراں گاؤں والوں کے پاس کونسا اسلحہ تھا جس کے زور پر وہ ڈٹے رہے؟ انہوں نے چپکے سے اندھیری آدھی رات کو سلوہ گاؤں کی طرف چل دیا اور بھگوراں کے باسیوں کے پیچھے بڑوہ گاؤں کا ایک جمِ غفیر بھی چل دیا۔ سب سے مشکل ترین مرحلہ کماد کے کھیتوں میں سے گزرنے کا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان کرکٹر محمد نبی اور ان کے بیٹے نے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں ایک ہی ٹیم میں کھیل کر تاریخ رقم کر دی

خطرناک راہ

جو بھی کبھی اِس صورتِ حال کے قریب سے گزرا ہوگا، یعنی کبھی اچھے کماد کے کھیت کے اندر سے پسند کا گنا لینے کا اتفاق ہوا ہوگا، وہ بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں کماد کے کھیتوں میں گزرنا جان لیوا کام تھا۔ گنّے کے لمبے پتّے چُھری کی طرح تیز ہوتے ہیں، اور ان کے جسم کے ننگے حصّوں پر کاٹنے کے نشانات جلن پیدا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی حلف برداری سے متعلق گورنر اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹریز کو پھر خطوط لکھ دیئے

والد اور بیٹے کا مکالمہ

آگے برساتی نالہ میں سبھی بخیریت پار ہوگئے لیکن میں وہاں رُک گیا۔ والد صاحب نے ذرا چیخ کر کہا: "بیٹے، کیا ہوا؟" میں نے کہا: "ایک جُوتا نالے کے گارے میں پھنس گیا ہے۔" والد صاحب نے کہا: "چھوڑو، جلدی کرو… بھاگ کے آؤ!" میں نے ایک جُوتا وہیں چھوڑا اور ایک جُوتے کے ساتھ ہی چلتا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: حالیہ سیلابوں سے ملکی معیشت کو جی ڈی پی کے 9اشاریہ 5فیصد سے زائد نقصان ہوا، وفاقی وزیر مصدق ملک

خوف کی کیفیت

میری امّی نے چھوٹی بہن کلثوم اختر کو اٹھایا ہوا تھا، جو ابھی صرف چند ماہ کی تھی۔ جاتے جاتے بائیں طرف سے کچھ آہٹ سی ہوئی تو خوف کے مارے سبھی دائیں طرف کئی قدم دور بھاگ گئے، جیسے ہوا کا ایک تیز جھونکا سب کو اُٹھا کر لے گیا ہو۔ میری امّی کے ساتھ چلنے والی زبیدہ بی بی نے کہا: "بی بی! چھوڑ پھینک اس بچی کو، اپنی جان بچا!" لیکن میری امّی نے اس مشورے کو پی لیا اور کلثوم اختر کو اپنے سینے سے بھینچ لیا۔

یہ بھی پڑھیں: سموگ سے زیادہ پی ٹی آئی خطرناک ہے، فیصلہ کرلیں علیمہ باجی نے سیاست کرنی ہے یا بشریٰ بی بی نے: عظمٰی بخاری

سلوہ گاؤں کی طرف سفر

کوئی 3 میل کا فاصلہ کم و بیش 6 گھنٹے میں طے کر کے یہ دہشت و بربریت زدہ لوگ وہاں واقع گاؤں "سلوہ" کے قریب پہنچے۔ والد صاحب اور بھگوراں کے عاشق حسین قدرے جھکتے جھکاتے سلوہ گاؤں کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب وہ گاؤں کے نزدیک پہنچے تو بیٹھ گئے اور دو مسلّح آدمیوں کا انتظار کرنے لگے۔

مسلح افراد کی آمد

یہی کوئی آدھے گھنٹے بعد جب وہ واپس آئے تو انہوں نے اپنے بازوؤں کو اوپر کر کے اُن کی توجہ حاصل کی۔ پہلے تو انہوں نے اپنی بندوقوں کا رُخ اُن کی طرف موڑا، لیکن اپنی حالتِ سپردگی دیکھ کر بندوقوں کا رُخ نیچے کر لیا۔ والد صاحب نے دور سے ہی اُن کو زور دار آواز میں بتا دیا کہ "دو گاؤں" کے لوگ قتل و غارت گری کے خوف سے اِدھر آگئے ہیں۔ یہ بات سن کر انہوں نے کوئی اچھا ردّ عمل ظاہر نہ کیا اور منہ ہی منہ میں کچھ بڑ بڑائے۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...