مدینہ پہنچے، 3 گھنٹے تک ایئرپورٹ کے لاؤنج نما کمرے میں بسوں کے انتظار میں بیٹھے رہے، سامان کی تلاش میں رات بھر مارے مارے پھرتے رہے۔

مصنف کا تعارف

رانا امیر احمد خاں

یہ بھی پڑھیں: اداکار اور میزبان ساحر لودھی کی وائرل ویڈیوز پر اداکار یاسر نواز کی جانب سے ٹرولنگ

قسط: 280

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے 15 ہزار سے زائد کارکنوں کیخلاف درج ایف آئی آر کا مسودہ منظر عام پر آگیا

سٹیزن کونسل کے اغراض و مقاصد

آخر میں سٹیزن کونسل کے صدر رانا امیر احمد خاں ایڈووکیٹ نے سٹیزن کونسل کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارا ادارہ قومی مسائل اور ایشوز پر مستقل غور و فکر کرنے والوں کا ایک غیر سیاسی ادارہ ہے۔ اس کے ارکان کی اکثریت ڈاکٹرز، انجینئرز، پروفیسرز، چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ، وکلاء اور دوسری زندگی کے ماہرین پر مشتمل ہے۔ کونسل کے اراکین تھنک ٹینکس کی شکل میں رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہوئے پاکستان کو درپیش مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔ رانا امیر احمد خاں نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزراء اعلیٰ کا بھی شکریہ ادا کیا کہ مذکورہ صوبائی حکومتوں نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے سپیشل اینٹی دہشت گرد فورس قائم کرنے کے لیے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے 6 ماہ میں اہداف حاصل نہ کرنے والے اداروں کو الٹی میٹم دیدیا

پاکستان ایگری فورم کی تنقید

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ایگری فورم کے صدر ڈاکٹر محمد ابراہیم مغل نے زراعت اور دیگر شعبوں میں جاری حکومتی پالیسیوں کو اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے حل کے لیے تجاویز پیش کیں۔

یہ بھی پڑھیں: نامزدگیاں مسلم لیگ کے لیے باعثِ نفاق و انتشار بن گئیں، فوری انتخابات کا راستہ نہ اپنایا تو ہمیں آئندہ کفِ افسوس ملنے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔

حج کی سعادت اور حجاج کی مشکلات

ہم سب اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ حج اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے اور اس کی ادائیگی ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ فرض ہے۔ مجھے 2005ء میں بیگم اور بیٹی کے ساتھ عمرے کی سعادت حاصل ہوئی تھی، لیکن اب 20145ء میں میں نے محسوس کیا کہ میری عمر 74 سال ہو چکی ہے اور میں اب تک حج نہیں کر سکا۔ گزشتہ سال 2014ء میں میں نے چند پرائیویٹ حج عمرہ گروپس کے دفاتر کا دورہ کیا۔ ان میں سب سے بہترین ذکا گروپ کے پاس اگلے 3 سال کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ دیگر گروپوں سے میں مطمئن نہیں تھا لہذا میں نے سوچا کہ اگر مجھے عام پاکستانیوں کے ساتھ گورنمنٹ حج سکیم میں موقع ملے تو حج کر لینا چاہیے، تاکہ مجھے ایک عام پاکستانی حاجی کی مشکلات کا بھی علم ہو سکے۔ چنانچہ گھر والوں کی مخالفت کے باوجود میں نے اکیلے ہی حج درخواست داخل کر دی۔ قسمت نے میری مدد کی اور میری درخواست منظور ہو گئی۔ میں نے حج آفس لاہور سے ٹریننگ حاصل کی اور مختلف انجکشنز لگوا کر 30 اگست 2015ء کی شام 5 بجے مدینہ طیبہ روانہ ہوا۔

تقریباً ساڑھے چار گھنٹے بعد ہمارا جہاز مدینہ منورہ کے ہوائی اڈے پر رات ساڑھے نو بجے بخیریت لینڈ کر گیا۔ جہاز سے اترنے کے بعد ہمیں 3 گھنٹے ایئرپورٹ کے لاؤنج نما کمرے میں بسوں کا انتظار کرنا پڑا۔ خدا خدا کر کے ہم بذریعہ بس اپنی قیام گاہ پر 1 بجے رات پہنچے، جہاں ہمارا سامان ہمیں نہیں ملا۔ حاجی حضرات کو اب تک مدینہ میں اپنے ہوٹل کی جگہ کا علم نہیں تھا، اور ان کا سامان مختلف ہوٹلوں کے دروازوں کے باہر اتارا گیا تھا۔ میں نے اپنا سامان اگلے روز کسی معاون حج کی مدد سے کسی دوسرے ہوٹل سے تلاش کیا۔

(جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آرائی سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...