سعودی عرب، دہشت گردی کے الزامات میں ملوث 3 افراد کو سزائے موت دے دی گئی
سعودی عرب میں عدالتی فیصلہ
ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی عرب میں دہشت گردی کے سنگین الزامات ثابت ہونے پر تین افراد کو سزائے موت دے دی گئی۔ جن افراد کو سزائے موت دی گئی ان میں حسین بن سالم بن محمد العمری، سعود بن ہلیل بن سعود العنزی، اور بسام محسن مران السبیعی شامل ہیں۔
جرائم کی نوعیت
وزارتِ داخلہ کے بیان کے مطابق مذکورہ افراد ایک بیرونی دہشت گرد تنظیم میں شمولیت، سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں میں دھماکہ خیز مواد نصب کرنے، اہلکاروں کو قتل کرنے کی کوشش، اور دہشت گرد عناصر کو پناہ فراہم کرنے جیسے جرائم میں ملوث تھے۔
عدالتی کارروائی
سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو گرفتار کیا۔ مکمل تفتیش کے بعد ان پر عائد الزامات ثابت ہوئے، جس کے بعد کیس متعلقہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے شواہد کی بنیاد پر تینوں افراد کو تعزیری طور پر سزائے موت سنائی۔ بعد ازاں اس فیصلے کی اعلیٰ عدالتی فورمز سے توثیق ہوئی اور شاہی فرمان جاری ہونے کے بعد شرعی حکم پر عمل درآمد کیا گیا۔
سزائے موت کا نفاذ
وزارتِ داخلہ کے مطابق تینوں مجرموں کو اتوار، 29 رجب 1447 ہجری بمطابق 18 جنوری 2026 کو دارالحکومت ریاض میں سزائے موت دی گئی۔
سعودی حکومت کا عزم
وزارتِ داخلہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ سعودی حکومت ملک میں امن و امان کے قیام، انصاف کی فراہمی، اور شریعت کے نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس نوعیت کی سزائیں ان عناصر کے لیے واضح تنبیہ ہیں جو معاشرے کے امن، استحکام، اور بے گناہ جانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔








