پاکستان کے غریب مزید غریب، عوام کی حقیقی آمدن میں 12.2 فیصد کمی ہوئی، مفتاح اسماعیل
معاشی بحران کی صورت حال
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان کے غریب ترین 20 فیصد لوگ 20189 کے مقابلے میں اوسطاً 18 فیصد مزید غریب ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ایک عام پاکستانی کی حقیقی آمدن میں 12.2 فیصد کمی آ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا پانی روکا تو نسلوں تک محیط نتائج آئیں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر کی بھارت کا چھٹا طیارہ گرانے کی تصدیق
اعداد و شمار کی حقیقت
تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار کسی سیاسی جماعت کے نہیں بلکہ حکومتِ پاکستان کے اپنے جاری کردہ دو بڑے سرویز، پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے اور ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے، پر مبنی ہیں، جن پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف کی تقریر سے نئی راہیں ایک نئی تڑپ
خریداری کی طاقت میں کمی
انہوں نے کہا کہ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے میں 20189 اور 2024-25 کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں عوام کی خریداری کی طاقت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ شہری علاقوں میں غریب ترین طبقہ 22 سے 23 فیصد مزید غریب ہو چکا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں یہی طبقہ تقریباً 19 فیصد مزید غربت کا شکار ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق برطانوی شہزادہ اینڈریو، ماؤنٹ بیٹن کا رہنما رہا
انفلیشن اور آمدن
مفتاح اسماعیل کے مطابق لیبر انکم سروے ظاہر کرتا ہے کہ آج پاکستانیوں کی آمدن عملی طور پر 2010 کی سطح پر کھڑی ہے، اور اگر کہیں معمولی اضافہ نظر آتا بھی ہے تو وہ 20134 کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2021 کے بعد انفلیشن ایڈجسٹڈ حقیقی آمدن مسلسل نیچے جا رہی ہے، جبکہ 2023 میں فروری، مارچ اور اپریل کے دوران مہنگائی تقریباً 36 فیصد تک پہنچ گئی، جو ملکی تاریخ میں ایک خطرناک ریکارڈ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: نجی ہوٹل میں آتشزدگی کا مقدمہ مالک سمیت 6 افراد کیخلاف درج
خوراک کی کمی
غذائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستانی عوام کی خوراک میں واضح کمی آ چکی ہے۔ تیل، آٹا، چاول، روٹی، انڈے، گوشت اور چکن، ہر چیز کی کھپت 20189 کے مقابلے میں 2024-25 میں کم ہو گئی ہے کیونکہ عوام افورڈ نہیں کر پا رہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم سے ریٹائر ہونے والی وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات عنبرین جان کی الوداعی ملاقات، خدمات پر خراج تحسین پیش کیا گیا
انڈوں کی کھپت کا نقصان
انہوں نے انکشاف کیا کہ 20189 میں ایک پاکستانی اوسطاً ماہانہ 4 انڈے کھاتا تھا، یعنی ہفتے میں ایک انڈا، مگر اب یہ تعداد کم ہو کر 2.83 انڈے فی مہینہ رہ گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک پاکستانی 10 دن میں بھی ایک انڈا نہیں کھا پاتا۔ ان کے مطابق اگر مجموعی حساب لگایا جائے تو 21 پاکستانی مل کر ایک مہینے میں صرف 60 انڈے کھاتے ہیں، یعنی اگر ایک شخص روزانہ دو انڈے کھا رہا ہو تو اس کے ساتھ 20 ایسے لوگ بھی ہیں جو پورے مہینے میں ایک انڈا بھی نہیں کھا سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: ممکنہ طور پر اگلے اتوار 21 ستمبر کو پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں متحدہ عرب امارات میں سُپر فور کا پہلا میچ کھیلیں گی، عبدالماجد بھٹی
گوشت کی دستیابی
گوشت کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایک پاکستانی کو پورے مہینے میں اوسطاً صرف 50 گرام مٹن اور 110 گرام بیف میسر آتی ہے، جو غذائی قلت اور قوتِ خرید میں شدید کمی کا واضح ثبوت ہے۔
سخت معاشی چیلنجز
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ یہ تمام اعداد و شمار اس بات کا اعلان ہیں کہ پاکستان ایک سنگین معاشی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں مہنگائی، آمدن میں کمی اور غذائی قلت نے عوام، خاص طور پر غریب طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔








