تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے 7 مطالبات، کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری
آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے زیر اہتمام کراچی میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس پر کانفرنس میں شریک تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے دستخط کیے۔ اعلامیہ تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے ترجمان اخنزادہ حسین احمد یوسفزئی نے پڑھ کر سنایا۔ اعلامیہ میں ملک میں آئینی، جمہوری، سیاسی، عدلیہ اور معاشی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سات نکاتی مطالبات پیش کیے گئے۔
1: شفاف انتخابات کا مطالبہ
اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان میں آئینی و جمہوری بحالی صرف آزاد اور شفاف انتخابات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایک غیر جانبدار نیا چیف الیکشن کمیشنر تعینات کیا جائے، اور ایک بااختیار الیکشن کمیشن کے تحت شفاف انتخابات کرائے جائیں۔
اعلامیہ میں 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ بدترین دھاندلی کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ذمہ دار عناصر کا تعین کر کے انہیں آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سزا دی جائے۔
2: سندھ حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید
اعلامیہ میں سندھ حکومت کی کارکردگی کو مکمل طور پر ناکام قرار دیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق کراچی کے علاقے صدر میں گورنرز گل پلازہ میں آتشزدگی، اندرونِ سندھ ڈاکو راج، کراچی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات، بچوں کا کھلے گٹروں میں گر کر جاں بحق ہونا، پانی کی قلت اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں سندھ حکومت کی بدترین ناکامی کا واضح ثبوت ہیں۔
3: عدلیہ پر حملوں کی مذمت
اعلامیہ میں کہا گیا کہ عدلیہ کے ستون کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ 26ویں اور نام نہاد 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے ججز کے تبادلوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا اور عدلیہ کی آزادی ختم کر دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق باضمیر ججز، جن میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ اور لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا شامل ہیں، کو ادارے سے علیحدگی پر مجبور کیا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف کارروائی کو بھی عدلیہ پر دباؤ کی تازہ مثال قرار دیتے ہوئے ان تمام اقدامات کی شدید مذمت کی گئی۔
4: سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ
اعلامیہ میں تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا، جن میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، شاہ محمود قریشی، سینیٹر اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید، ساجدہ حامد رضا، حسن نیازی، علی وزیر، عبدالصمد اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران شامل ہیں۔
اعلامیہ میں عمران خان سے اہلِ خانہ اور وکلا کی ملاقاتوں پر عائد غیر آئینی پابندیاں فوری ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
5: اظہارِ رائے اور میڈیا پر قدغنیں
تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے تنقیدی آوازوں کو دبانے کے لیے بنائے گئے پیکا قانون کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
اعلامیہ میں صحافی ارشد شریف کے قتل، صحافی مہدی علی جان کے خلاف مقدمات اور میڈیا ورکرز کی برطرفیوں کی بھی شدید مذمت کی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف قائم مقدمات ختم کر کے شفاف ٹرائل یقینی بنایا جائے۔
6: معاشی بحران پر تشویش
اعلامیہ میں کہا گیا کہ معاشی استحکام سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی 44 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے، جبکہ بے روزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ سرمایہ کاری تقریباً ختم ہو چکی ہے، ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان چھوڑ رہی ہیں اور ٹیکسٹائل انڈسٹری تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں اور خوف کی فضا کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
7: خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے مطالبات
اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا میں گرینڈ جرگے کے متفقہ مطالبات پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔
ضلع وزیرستان، خصوصاً وانا اور تیراہ میں جاری فوجی آپریشن فوری بند کیا جائے، جبکہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے معاملات میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے۔
اعلامیہ کے اختتام پر کہا گیا کہ یہ تمام مطالبات آئینِ پاکستان، انسانی حقوق اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے ہیں۔ ملک کو بحران سے نکالنے کا واحد راستہ آئین کی بالادستی، جمہوریت کی بحالی اور عوامی حقوق کا مکمل احترام ہے۔








