دنیا بہت سمٹ چکی ہے، ان سے نیاز مندی ہو گئی، عرصہ گزرنے کے باوجود محبتوں کا سلسلہ برقرار ہے، مجھے شام کی مصروفیت اور فٹنس کا بہانہ مل گیا تھا۔
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 413
یہ بھی پڑھیں: مرغی کا گوشت 45 روپے فی کلو مہنگا
تاریخی مقام
یہ وہی جگہ تھی جہاں 1956ء میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ میچ بھی کھیلا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملہ ابتداءہے،’’ بڑی لہر ‘‘ابھی باقی ہے، ہم نے ابھی سختی سے نہیں مارا، بڑا حملہ جلد ہوگا:ٹرمپ
سکوائش کورٹ کی یادیں
مجھے اس کے ہاکی میدان میں ”اڑتے گھوڑے“ (flying horse) سمیع اللہ، ان کے بھائی کلیم اللہ اور ان کے چچا اولمپئین مطیع اللہ خاں کے پاؤں کے نشانات بھی نظر آئے۔ یہاں کے سکوائش کورٹ دیکھ کر میرا بھی سکوائش کھیلنے کا پرانا شوق نیا ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 16 سالہ لڑکی کی لاش ملنے کا معاملہ؛ زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کیا گیا
دوستی کا سفرا
سکوائش کورٹ کا مارکر ”پرویز“ بے باک انسان تھا۔ اس کے ساتھ بھی دوستی سی ہو گئی تھی۔ بڑے پیار سے ملتا اور خوب کھیلتا تھا۔ میں اس کے ساتھ 2 گیمز ہی کھیل کر تھک کر بیٹھ جاتا اور وہ دوسرے کھلاڑیوں سے کھیلتا رہتا۔ اس ہنس مکھ سے برسوں بعد بھی رابطہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بشارالاسد کا طیارہ ریڈار سے غائب، کیا اسے تباہ کردیا گیا؟ برطانوی میڈیا نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا
معروف شخصیات
اس سکوائش کورٹ میں بہاول پور کا ایک بڑا انسان بھی سکوائش کھیلنے آتا تھا۔ یہ تھے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (آر) فرخ محمود۔ خوش لباس، خوش گفتار شخصیت اور اعلیٰ ذوق والے کمال انسان تھے۔ ان سے بھی نیاز مندی ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: نواز الدین صدیقی بالی ووڈ میں اداکاروں کیساتھ ہونے والے امتیازی سلوک پر بول پڑے
ڈاکٹر مغیث اور ان کی مہارت
ان کے داماد ڈاکٹر مغیث بھی سکوائش کھیلنے تھے۔ وہ بہاول پور کے مشہور "ہئیر ٹرانسپلانٹ سرجن" تھے۔ سیاحت کے دلدادہ، بہترین انسان اور ہنس مکھ دوست۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: کیا چین بھارت کا پانی روک سکتا ہے؟ انڈس واٹر ٹریٹی معطل کر کے بھارت پاکستان کو کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے؟ پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟ وہ باتیں جو لوگوں کو معلوم نہیں
ڈاکٹر کی پیشکش
ایک روز مجھے انہوں نے آفر دی کہ "آپ کے سر پر نئے بال ہم اگا دیتے ہیں بس خدمت کا موقع دیں۔" میں اس فرخدالانہ پیشکش کا ہمیشہ ممنون رہوں گا اور آج بھی اس کا خیال آتا ہے، خود کو "کلنٹ ایسٹ وڈ" سمجھنے لگتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے بچے قانون ہاتھ میں لیں گے تو۔۔۔؟ گورنر خیبر پختونخوا کا بیان بھی آ گیا
ڈرنگ سٹیڈیم کی شامیں
میری شام اب ڈرنگ سٹیڈیم میں گزرنے لگی اور شام کی مصروفیت اور فٹنس کا بہانہ مل گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: افواجِ پاکستان قدرتی آفات میں بھی عوام کیساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہیں: حنا پرویز بٹ
خواتین کے ہاکی مقابلے
ڈرنگ سٹیڈیم کی یادوں میں یہاں ہونے والے خواتین کے ہاکی مقابلوں میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرنا بھی اعزاز کی بات تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر اعظم عمران خان کو دہشتگردی کے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا
گولیڈ میڈلسٹ سے ملاقات
کئی بار میری ملاقات ہاکی کے عظیم کھلاڑی، ٹوکیو اولمپکس کے گولڈ میڈلسٹ مطیع اللہ خاں سے بھی ہوئی۔ کاش ان کی زندگی کا کوئی لمحہ دوبارہ جاگ جائے۔
یہ بھی پڑھیں: عبدالستار ایدھی جیسے لوگ انسانیت کی معراج اور معاشرے کی خوبصورتی ہیں،وزیر اعلیٰ مریم نواز
چڑیا گھر کی حقیقت
ڈرنگ سٹیڈیم کے سامنے ہی بہاول پور کا چڑیا گھر ہے۔ ایک روز عامر اور میں وہاں گئے، جانوروں کی حالت دیکھ کر مجھے غریب لوگوں کی یاد آ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ
بے زبانی کی پکار
جانوروں کے پنجروں میں بدبو تھی، وہ کمزور اور ہڈیوں کے ڈھانچے بن چکے تھے۔ یہ جانور نہ تو کسی سے کوئی شکوہ کر سکتے تھے اور نہ ہی ان کے آنسو کسی کو دکھائی دیتے ہوں گے۔
کئیر ٹیکر کا حال
مجھے ان کے کئیر ٹیکر سے ملنے کا اتفاق بھی ہوا تھا۔ اس کی صحت دیکھ کر مجھے رشک آیا۔ کاش ان بے زبانوں کے کھانے کی طرف بھی کچھ توجہ کرتا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








