دنیا بہت سمٹ چکی ہے، ان سے نیاز مندی ہو گئی، عرصہ گزرنے کے باوجود محبتوں کا سلسلہ برقرار ہے، مجھے شام کی مصروفیت اور فٹنس کا بہانہ مل گیا تھا۔
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 413
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 6 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
تاریخی مقام
یہ وہی جگہ تھی جہاں 1956ء میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ میچ بھی کھیلا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ٹینکرز اور ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی کی فراہمی ختم کرنے کا فیصلہ
سکوائش کورٹ کی یادیں
مجھے اس کے ہاکی میدان میں ”اڑتے گھوڑے“ (flying horse) سمیع اللہ، ان کے بھائی کلیم اللہ اور ان کے چچا اولمپئین مطیع اللہ خاں کے پاؤں کے نشانات بھی نظر آئے۔ یہاں کے سکوائش کورٹ دیکھ کر میرا بھی سکوائش کھیلنے کا پرانا شوق نیا ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں دوران واردات شہری کی فائرنگ سے ڈاکو ہلاک
دوستی کا سفرا
سکوائش کورٹ کا مارکر ”پرویز“ بے باک انسان تھا۔ اس کے ساتھ بھی دوستی سی ہو گئی تھی۔ بڑے پیار سے ملتا اور خوب کھیلتا تھا۔ میں اس کے ساتھ 2 گیمز ہی کھیل کر تھک کر بیٹھ جاتا اور وہ دوسرے کھلاڑیوں سے کھیلتا رہتا۔ اس ہنس مکھ سے برسوں بعد بھی رابطہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رانی آخری جنگ جیتے بغیر شہید یا گرفتار ہو جاتی تو باقی کی جنگ کون لڑتا؟ سہیل وڑائچ نے تحریک انصاف کے احتجاج کا تقابل دیومالائی جنگ “ٹروجن وار” سے کر ڈالا
معروف شخصیات
اس سکوائش کورٹ میں بہاول پور کا ایک بڑا انسان بھی سکوائش کھیلنے آتا تھا۔ یہ تھے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (آر) فرخ محمود۔ خوش لباس، خوش گفتار شخصیت اور اعلیٰ ذوق والے کمال انسان تھے۔ ان سے بھی نیاز مندی ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد اور راولپنڈی میں برفباری، لاہور میں شدید سردی کا امکان، سائبیریا کی برفیلی، یخ بستہ ہوائیں براہِ راست پورے خطّے کو متاثر کرنے کے آثار دکھا رہی ہیں، ماہرین نے خدشہ ظاہر کردیا۔
ڈاکٹر مغیث اور ان کی مہارت
ان کے داماد ڈاکٹر مغیث بھی سکوائش کھیلنے تھے۔ وہ بہاول پور کے مشہور "ہئیر ٹرانسپلانٹ سرجن" تھے۔ سیاحت کے دلدادہ، بہترین انسان اور ہنس مکھ دوست۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں حلالہ سینٹرز کی قیام، نادیہ خان نے اپنے موبائل پر اشتہار دیکھنے کا انکشاف کیا
ڈاکٹر کی پیشکش
ایک روز مجھے انہوں نے آفر دی کہ "آپ کے سر پر نئے بال ہم اگا دیتے ہیں بس خدمت کا موقع دیں۔" میں اس فرخدالانہ پیشکش کا ہمیشہ ممنون رہوں گا اور آج بھی اس کا خیال آتا ہے، خود کو "کلنٹ ایسٹ وڈ" سمجھنے لگتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کی کارروائی، لیبیا کشتی حادثے کے اہم ملزم بشیر احمد کو گرفتار کر لیا گیا
ڈرنگ سٹیڈیم کی شامیں
میری شام اب ڈرنگ سٹیڈیم میں گزرنے لگی اور شام کی مصروفیت اور فٹنس کا بہانہ مل گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھلوال میں 4 بہنوں نے زہریلی گولیاں کھالیں، ہسپتال منتقل، حالت تشویشناک
خواتین کے ہاکی مقابلے
ڈرنگ سٹیڈیم کی یادوں میں یہاں ہونے والے خواتین کے ہاکی مقابلوں میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرنا بھی اعزاز کی بات تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں 15 ہزار غیر قانونی مقیم غیرملکی گرفتار
گولیڈ میڈلسٹ سے ملاقات
کئی بار میری ملاقات ہاکی کے عظیم کھلاڑی، ٹوکیو اولمپکس کے گولڈ میڈلسٹ مطیع اللہ خاں سے بھی ہوئی۔ کاش ان کی زندگی کا کوئی لمحہ دوبارہ جاگ جائے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کا معاملہ، پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 2 مختلف لسٹیں جاری کر دی گئیں
چڑیا گھر کی حقیقت
ڈرنگ سٹیڈیم کے سامنے ہی بہاول پور کا چڑیا گھر ہے۔ ایک روز عامر اور میں وہاں گئے، جانوروں کی حالت دیکھ کر مجھے غریب لوگوں کی یاد آ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں شدید زلزلہ
بے زبانی کی پکار
جانوروں کے پنجروں میں بدبو تھی، وہ کمزور اور ہڈیوں کے ڈھانچے بن چکے تھے۔ یہ جانور نہ تو کسی سے کوئی شکوہ کر سکتے تھے اور نہ ہی ان کے آنسو کسی کو دکھائی دیتے ہوں گے۔
کئیر ٹیکر کا حال
مجھے ان کے کئیر ٹیکر سے ملنے کا اتفاق بھی ہوا تھا۔ اس کی صحت دیکھ کر مجھے رشک آیا۔ کاش ان بے زبانوں کے کھانے کی طرف بھی کچھ توجہ کرتا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








