میں چاہتی ہوں لاہور قلندرز امریکی کرکٹ کے مستقبل کے ستارے تراشنے میں ہماری مدد کرے، ناٹلی بیکر
لاہور میں امریکی ناظم الامور کا ویژن
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور ناٹلی اے بیکر نے امریکی کرکٹ کے روشن مستقبل کے لیے ایک پُرعزم وژن پیش کرتے ہوئے ’امریکن ڈریم‘ کی تعبیر کے لیے ایک غیر معمولی معمار کا انتخاب کیا ہے، اور وہ معمار ہے: لاہور قلندرز۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
کرکٹ کا بین البراعظمی اتحاد
لاہور قلندرز کی ایک دہائی پر محیط اثر و رسوخ کے جشن کے لیے منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، مس بیکر نے محض ایک ٹیم کی کامیابیوں کو نہیں سراہا، بلکہ ایک بین البراعظمی اتحاد کی بنیاد رکھ دی۔ لاس اینجلس اولمپکس 2028، جہاں کرکٹ پہلی بار تاریخی طور پر شامل کی جا رہی ہے، اب امریکہ کی نظروں میں ہے اور واشنگٹن اپنے کھیلوں کے منظر نامے کو بدلنے کے لیے اس ’جادوئی فارمولے‘ کی تلاش میں ہے جو ناٹلی بیکر کے بقول لاہور قلندرز کے پاس ’ڈیولپمنٹ بلیو پرنٹ‘ کی صورت میں موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 2 بچوں کو قتل کرنے والی ماں 3روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
کرکٹ انفراسٹرکچر کی ضرورت
امریکی مشن اور قلندرز کا کردار امریکی سفیر کا پیغام دو ٹوک اور واضح تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب امریکہ 2026 کے فیفا ورلڈ کپ اور 2028 کے اولمپکس جیسے عظیم الشان عالمی مقابلوں کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے، تو ایک مضبوط اور مسابقتی کرکٹ انفراسٹرکچر کی تعمیر کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ مس بیکر نے واشگاف الفاظ میں کہا: "میں چاہتی ہوں کہ لاہور قلندرز امریکہ میں کرکٹ کے مستقبل کے ستارے پیدا کرنے میں ہماری مدد کرے۔"
یہ بھی پڑھیں: وفاق سے وار آن ٹیرر کے سارے پیسے نہیں ملے، علی امین گنڈا پور کا دعویٰ
قلندرز کا ہائی پرفارمنس سینٹر
انہوں نے قلندرز کے شہرہ آفاق ’ہائی پرفارمنس سینٹر‘ کے ماڈل کو امریکی سرزمین پر منتقل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس تعاون کا پل تعمیر ہونا شروع ہو چکا ہے۔ قلندرز کے کئی ستارے پہلے ہی امریکی کرکٹ لیگز میں شرکت کے لیے تیار ہیں، جو کہ 2028 کے اولمپکس سے قبل وہاں اس کھیل کے فروغ میں ایک مہمیز کا کام کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے 15 ہزار سے زائد کارکنوں کیخلاف درج ایف آئی آر کا مسودہ منظر عام پر آگیا
کرکٹ سے عشق کا سفر
کرکٹ سے عشق کا سفر ناٹلی بیکر کا کرکٹ سے نابلد ہونے سے لے کر اس کھیل کی پرجوش وکیل بننے تک کا سفر ’قلندرز اسپرٹ‘ کی زندہ مثال ہے۔ ان کے بقول، کرکٹ کے بارے میں ان کا نظریہ کسی بند کمرے کے اجلاس میں نہیں بلکہ پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کی اس سحر انگیز فضا میں بدلا جہاں انہوں نے پی ایس ایل 10 کا کوارٹر فائنل دیکھا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی ہاکی ٹیم کا بڑا معرکہ، پاکستان سنسنی خیز مقابلے کے بعد فرانس کو شکست دے کر ایف آئی ایچ نیشنز کپ کے فائنل میں پہنچ گیا
عاطف رانا اور عظیم کھلاڑی
لاہور قلندرز کے مالک عاطف رانا کی دعوت پر میچ دیکھنے والی ناٹلی بیکر نے شاہین شاہ آفریدی جیسے عظیم کھلاڑیوں کی مہارت کو قریب سے دیکھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ: "ٹیم کو لڑتے، اسکور کرتے اور جیتتے دیکھ کر مجھے واقعی کرکٹ سے محبت ہو گئی۔" انہوں نے اس تجربے کو اپنے نئے سفارتی مشن کا نقطہ آغاز قرار دیا، جس کا مقصد لاہور کی پُررونق گلیوں اور امریکہ کے وسیع و عریض اسٹیڈیمز کے درمیان حائل فاصلوں کو مٹانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے نیب کیس میں سزا بھگتنے والے ملزم کو الزامات سے بری قرار دے دیا
بیکر کا عاطف رانا کی قیادت پر خراجِ تحسین
ایک خاندان، ایک وژن ٹرافیوں اور تمغوں سے ہٹ کر، مس بیکر نے عاطف رانا اور سمین رانا کی دور اندیش قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ فرنچائز کی کامیابی محض اتفاق نہیں بلکہ "حساب شدہ اور طویل المدت منصوبہ بندی" کا ثمر ہے۔ انہوں نے مشاہدہ کیا کہ "لاہور قلندرز محض ایک اسپورٹس فرنچائز نہیں، بلکہ ایک جڑا ہوا خاندان ہے۔" انہوں نے پلیئر ڈیولپمنٹ پروگرام (PDP) کو امید کی ایک ایسی کرن قرار دیا جو پاکستان کے دور دراز علاقوں کی طرح امریکہ کے متنوع ٹیلنٹ میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتا ہے۔
سماجی وحدت کا سنگِ میل
سماجی وحدت کا سنگِ میل عالمی انتشار کے اس دور میں، مس بیکر نے لاہور قلندرز کے سفر کو سماجی ہم آہنگی کے ایک نمونے کے طور پر پیش کیا۔ ان کے نزدیک یہ شراکت داری محض وکٹوں اور رنز کا کھیل نہیں، بلکہ یہ ’امید اور یکجہتی‘ کا وہ سفارتی محاذ ہے جس کا مقصد ’تھیٹر آف ڈریمز‘ کو ایک عالمی حقیقت میں بدلنا ہے، جہاں لاہور کے تربیت یافتہ ماہرین کی نگرانی میں امریکی ستارے افق پر چمکیں گے۔








