سینیٹ میں کون کتنے منٹ تک بول سکے گا۔۔؟ رولز میں ترمیم کا ایجنڈا سامنے آگیا
سینیٹ میں تقریر کا وقت معین کرنے کی ترمیم
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹ میں کون کتنے منٹ تک بول سکے گا ۔۔۔؟ رولز میں ترمیم کا ایجنڈا سامنے آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ روایتی و غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے،چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف کا 54ویں سٹاف کورس کے شرکاء سے خطاب
پی پی پی کی ترمیم کی تجویز
’’جنگ‘‘ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر قرۃ العین مری ایوان بالا میں تقاریر میں وقت کی حد متعین کرنے کے حوالے سے سینیٹ رولز میں ترمیم اجلاس میں پیش کریں گی۔ ترمیم کی تجویز ہے کہ قائد ایوان، قائد حزب اختلاف یا وزیر 20 منٹ جبکہ دیگر ارکان 10 منٹ تقریر کر سکیں گے۔ سینٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ایئر لائن کے جہاز کا پورا عملہ ہی دوران پرواز سو گیا پھر کیا ہوا؟ حیران کن انکشاف
تقریری وقت کی حد و پابندی
ترمیم میں کہا گیا ہے کہ ایوان کی مرضی سے چیئرمین سینٹ میں تقریروں کے وقت کی حد مقرر کر سکتا ہے۔ قائد ایوان، قائد حزب اختلاف اور وزیر 20 منٹ تک بول سکتے ہیں، جبکہ کسی اور رکن کی تقریر 10 منٹ سے زیادہ نہیں ہوگی۔ تحریک التواء پر محرک، قائد ایوان، قائد حزب اختلاف یا وزیر کے لیے 20 منٹ تک بولنے کی اجازت ہے۔ موجودہ رولز کے مطابق چیئرمین اپنی مرضی سے یا ایوان کی رائے کے مطابق تقریروں کی ٹائم لمٹ طے کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہر 10 منٹ میں ایک عورت قریبی شخص کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف
عدم اعتماد کی قرارداد پر بولنے کا وقت
قائد ایوان یا قائد حزب اختلاف کو لامحدود وقت کے لیے بات کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پر کوئی شخص 10 منٹ سے زیادہ بات نہیں کرے گا جبکہ عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرنے والا 20 منٹ تک بول سکے گا۔ جس چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین کے خلاف قرارداد پیش کی گئی ہے، وہ بھی 20 منٹ بول سکے گا۔
خصوصی ضروریات رکھنے والے ارکان
اگر کسی رکن کو کوئی معذوری ہے، بیماری ہے یا کوئی ایسا مسئلہ ہے جس سے وہ حرکت نہیں کر سکتے تو انہیں بیٹھ کر بات کرنے کی اجازت ہوگی۔








