سینیٹ میں کون کتنے منٹ تک بول سکے گا۔۔؟ رولز میں ترمیم کا ایجنڈا سامنے آگیا
سینیٹ میں تقریر کا وقت معین کرنے کی ترمیم
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹ میں کون کتنے منٹ تک بول سکے گا ۔۔۔؟ رولز میں ترمیم کا ایجنڈا سامنے آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل فرنچائز ملتان سلطانز کو نیا کنٹریکٹ نہیں بھیجا، نجی نیوز چینل کا دعویٰ
پی پی پی کی ترمیم کی تجویز
’’جنگ‘‘ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر قرۃ العین مری ایوان بالا میں تقاریر میں وقت کی حد متعین کرنے کے حوالے سے سینیٹ رولز میں ترمیم اجلاس میں پیش کریں گی۔ ترمیم کی تجویز ہے کہ قائد ایوان، قائد حزب اختلاف یا وزیر 20 منٹ جبکہ دیگر ارکان 10 منٹ تقریر کر سکیں گے۔ سینٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی کو عہدے سے ہٹا دیاگیا
تقریری وقت کی حد و پابندی
ترمیم میں کہا گیا ہے کہ ایوان کی مرضی سے چیئرمین سینٹ میں تقریروں کے وقت کی حد مقرر کر سکتا ہے۔ قائد ایوان، قائد حزب اختلاف اور وزیر 20 منٹ تک بول سکتے ہیں، جبکہ کسی اور رکن کی تقریر 10 منٹ سے زیادہ نہیں ہوگی۔ تحریک التواء پر محرک، قائد ایوان، قائد حزب اختلاف یا وزیر کے لیے 20 منٹ تک بولنے کی اجازت ہے۔ موجودہ رولز کے مطابق چیئرمین اپنی مرضی سے یا ایوان کی رائے کے مطابق تقریروں کی ٹائم لمٹ طے کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چھ شہروں میں ریسکیو آپریشن کے لیے مزید سامان پہنچا دیا گیا، 119 سے زائد بوٹ آپریٹر بھی تعینات
عدم اعتماد کی قرارداد پر بولنے کا وقت
قائد ایوان یا قائد حزب اختلاف کو لامحدود وقت کے لیے بات کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پر کوئی شخص 10 منٹ سے زیادہ بات نہیں کرے گا جبکہ عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرنے والا 20 منٹ تک بول سکے گا۔ جس چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین کے خلاف قرارداد پیش کی گئی ہے، وہ بھی 20 منٹ بول سکے گا۔
خصوصی ضروریات رکھنے والے ارکان
اگر کسی رکن کو کوئی معذوری ہے، بیماری ہے یا کوئی ایسا مسئلہ ہے جس سے وہ حرکت نہیں کر سکتے تو انہیں بیٹھ کر بات کرنے کی اجازت ہوگی۔








