شامی حکومت اور امریکی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف میں جنگ بندی ہوگئی۔
شام میں جنگ بندی کا معاہدہ
دمشق (ڈیلی پاکستان آن لائن) شام میں حکومت اور کرد قیادت کے درمیان اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں شامی حکومت اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان تمام محاذوں پر فوری اور جامع جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ یہ معاہدہ شمال مشرقی شام میں کئی دنوں سے جاری شدید جھڑپوں کے بعد طے پایا، جب شامی فوج نے کردوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کی جانب پیش قدمی کی۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے ڈی نوٹیفکیشن کی منظوری دیدی
جنگ بندی کے نتائج
شامی صدارتی دفتر کی جانب سے جاری کردہ دستاویز کے مطابق جنگ بندی کے ساتھ ہی ایس ڈی ایف سے وابستہ تمام مسلح عناصر دریائے فرات کے مشرقی کنارے کی جانب واپس چلے جائیں گے۔ معاہدے کے تحت ایس ڈی ایف کے تمام جنگجوؤں کو سکیورٹی جانچ پڑتال کے بعد شامی وزارتِ دفاع اور وزارتِ داخلہ میں ضم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مقامی اور عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
علاقائی کنٹرول کی تبدیلی
روئٹرز کے مطابق دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شامی حکومت دیر الزور اور رقہ کے وہ تمام علاقے، جو اب تک کرد فورسز کے زیرِ انتظام تھے، فوری طور پر عسکری اور انتظامی کنٹرول میں لے لے گی۔ اسی طرح تمام سرحدی گزرگاہیں، تیل و گیس کے کنویں اور توانائی کے دیگر اہم اثاثے بھی ریاستی تحویل میں دے دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاق کو ترقیاتی بجٹ سے پیسے کاٹنے نہیں چاہیے تھے،مزمل اسلم
غیر ملکی عناصر کی خارجگی
معاہدے کے ایک اہم نکتے کے مطابق ایس ڈی ایف غیر شامی قیادت اور کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے وابستہ تمام عناصر کو شام سے باہر نکالنے کی پابند ہوگی۔ شامی صدارتی دفتر کی جانب سے جاری دستاویز پر صدر احمد الشرع اور ایس ڈی ایف کے سربراہ مظلوم عبدی کے دستخط موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 3 روز کے دوران 54 کروڑ روپے سے زائد کی ڈور اور گڈی فروخت، کائٹ ایسوسی ایشن کا دعویٰ
شامی صدر کا بیان
شامی صدر احمد الشرع نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایس ڈی ایف سے متعلق تمام زیر التوا معاملات حل کر لیے جائیں گے، جبکہ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ پیر کے روز مظلوم عبدی سے ملاقات بھی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹرویز پر ٹول ٹیکس 100 فیصد سے بھی زائد بڑھنے کا انکشاف
عمر تیل میدان کی صورت حال
اس سے پہلے شامی فوج اور اس کے اتحادی عرب قبائلی جنگجوؤں نے دیر الزور میں واقع العمر آئل فیلڈ، جو ملک کا سب سے بڑا تیل کا میدان ہے، اور کونیکو گیس فیلڈ پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ یہ علاقے دریائے فرات کے مشرق میں واقع ہیں اور طویل عرصے سے کرد قیادت کے لیے آمدن کا بڑا ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کچھ اتحادیوں کی جانب سے روسی تیل کی تنصیبات پر حملوں کو کم کرنے کا پیغام ملا : یوکرائنی صدر کا دعویٰ
امریکی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کی حالت
امریکی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کے زیرِ کنٹرول شمال مشرقی شام میں شامی فوج کی پیش قدمی امریکی اپیلوں کے باوجود جاری رہی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق عرب قبائلی فورسز کی قیادت میں ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں کرد فورسز کو پسپائی اختیار کرنا پڑی، جس کے بعد شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر عراق کی سرحد کے قریب باغوز سے لے کر الشحیل اور بصیرہ جیسے اہم قصبوں تک تقریباً 150 کلومیٹر طویل علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔
طبقا شہر پر قبضہ
ہفتے کی رات شامی فوج نے رقہ کے مغرب میں واقع شہر طبقا، اس کے ساتھ موجود ڈیم اور اہم فریڈم ڈیم، جسے پہلے بعث ڈیم کہا جاتا تھا، پر بھی قبضہ کر لیا۔








