نیپرا کی سٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 پر پاور ڈویژن کا مؤقف بھی آگیا
اسلام آباد (پ ر)
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی سٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 پر پاور ڈویژن کا مؤقف بھی آگیا۔
پروڈکشن کی گنجائش
1- شق 2.1.5:
تخمینوں کے مطابق 8700 میگاواٹ تک اضافی پیداواری گنجائش موجود ہے جس کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر صارفین کے ٹیرف بڑھتے ہیں، کیونکہ زیادہ تر بجلی گھر "ٹیک اور پے" یا "مسٹ رن" معاہدوں کے تحت چلتے ہیں۔ نصب شدہ پیداواری صلاحیت مکمل ریگولیٹری عمل سے گزری ہے، جس میں لائسنس کا اجرا اور ٹیرف کا تعین شامل ہے۔ تاہم، حکومت نے صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے تین سال کی مدت کے لیے رعایتی نرخوں پر سرپلس پاور پیکج متعارف کرایا ہے تاکہ طلب میں اضافہ اور پاور پلانٹس کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں کیپٹو صارفین قومی گرڈ میں منتقل ہوچکے ہیں۔
ایڈوانس پلاننگ
2- شق 2.1.6:
انٹیگریٹڈ جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (IGCEP) کی ساکھ غیر تکنیکی عوامل کی وجہ سے متاثر ہورہی ہے۔ کیونگر اگر منصوبوں کی شمولیت یا کم لاگت تجزیے، طلب کے تخمینے اور گرڈ انضمام کے مطالعات کے بجائے دوسرے عوامل پر مبنی ہو تو منصوبہ بندی کا عمل غیر جانبدار ہوجاتا ہے۔
ترسیلی منصوبے
3- شق 2.2.1:
ترسیلی نظام کے منصوبوں میں تاخیر کی بنیادی وجوہات رائٹ آف وے کی وجہ سے خریداری کے عمل میں رکاوٹیں تھیں۔ وزارت توانائی نے منصوبہ جاتی ترقی کے عمل کو ایک خود مختار کمپنی EIDMC میں منتقل کیا ہے، جو کہ نہ صرف منصوبوں کی بوقت تکمیل کی ذمہ داری ہوگی بلکہ پالیسی اور ریگولیٹری اصلاحات بھی متعارف کرائے گی۔
منافع کی ذمہ داری
4- شق 2.3.1:
ریگولیٹری اہداف سے زائد نقصانات کی ذمہ داری کمپنیوں پر ہونی چاہیے، نہ کہ صارفین پر یا سرکلر ڈیٹ میں شامل کی جائے۔ ڈسکوز کی نااہلی نہ تو صارفین پر منتقل کی جاتی ہے اور نہ ہی اسے سرکلر ڈیٹ میں شامل کر کے آئی پی پیز کو ادائیگی روکی جاتی ہے۔
بجلی بل مسائل
5- شق 2.3.2:
غلط ریڈنگ پر مبنی بجلی کے بل عدم ادائیگی کی بڑی وجہ ہیں، جس سے ڈسکوز کی وصولیوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں۔
سرکلر ڈیٹ میں تبدیلی
6- شق 2.3.3:
ایک سال میں سرکلر ڈیٹ میں 780 ارب روپے کی کمی۔ ریگولیٹر کی جانب سے پاور سیکٹر کے اعداد و شمار کے بارے میں معلومات حیران کن ہے، حالانکہ تمام ڈیٹا توثیق کے لیے بروقت فراہم کیا گیا۔
ڈیٹ سروس سرچارج
8- شق 2.3.3:
یہ کہنا غلط ہے کہ صارفین پر نیا 3.23 روپے فی ایونٹ ڈیٹ سروس سرچارج کا بوجھ ڈالا گیا ہے۔ حکومت کمی کے اہداف کے مطابق سبسڈی فراہم کررہی ہے۔
سمارٹ میٹرز کی تنصیب
11- شق 2.3.7:
16 لاکھ سے زائد سمارٹ میٹرز نصب ہوچکے ہیں۔ کئی ڈسکوز میں کمیونیکیشن دستیابی 90% سے زائد ہے۔
مہنگی بجلی کے اثرات
12- شق 2.3.8:
مارچ 2024 سے دسمبر 2025 تک اوسط ٹیرف 53.04 سے کم ہوکر 42.27 روپے ہوگیا ہے۔ حکومت مزید کمی کے لیے مراعاتی پیکجز، ٹیرف ری نیگوشی ایشن اور قرضوں کی ری فنانسنگ پر کام کررہی ہے۔
خود مختاری کا مقصد
14- شق 2.13:
PPMC کا مقصد مرکزی آپریشنل کنٹرول نہیں بلکہ تکنیکی نگرانی اور رپورٹنگ ہے۔ ڈسکوز آزاد بورڈز کے تحت خود مختار طور پر کام کرتی ہیں۔








