ایم کیو ایم کا سندھ اسمبلی میں سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت کی نااہلی پر احتجاج، ایوان سے واک آؤٹ کردیا
کراچی میں سندھ اسمبلی کی کارروائی
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم نے سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت کی نااہلی پر احتجاج کیا، نعرے لگائے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
اجلاس کا آغاز
سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر کی زیر صدارت شروع ہوا۔ سانحہ گل پلازہ کے شہداء کے لئے سندھ اسمبلی میں خصوصی دعا کی گئی۔ دعا کے بعد ایم کیو ایم ارکان اسمبلی ایوان میں کھڑے ہوگئے۔ ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ وہ سانحہ گل پلازہ پر بات کرنا چاہتے ہیں اس پر سعید غنی نے کہا کہ آپ بات کرلینا ہم منع کب کررہے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
احتجاج کی صورت حال
جس کے ایم کیو ایم کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے سانحہ گل پلازہ پر احتجاج کیا، انصاف دو انصاف دو، ظالموں جواب دو خون کا حساب دو کے نعرے لگائے۔ ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔
سیاسی مذاکرات
سعید غنی نے کہا کہ معاملے کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں، ہماری کوتاہیاں اجاگر کریں مگر شور نہ کریں، یہ طے ہوا تھا کہ گل پلازہ واقعہ پر سب بات کریں گے، کراچی کے لوگ اور سانحہ کے متاثرین دیکھ رہے ہیں، ایم کیو ایم والے تماشا لگانا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی ہے۔
آئندہ کے اقدامات
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم جوڈیشل انکوائری کے لیے بھی تیار ہیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سی ایم کو حکم دیا ہے کہ سندھ حکومت یہ معاملہ فوری حل کرے، آج اجلاس میں طے ہوا ہے کہ عمارتوں میں فائر الارم لگائے جائیں گے۔
تحریک استحقاق کا اندراج
بعدازاں ایم کیو ایم نے ڈپٹی کمشنر کراچی ایسٹ کے خلاف تحریک استحقاق جمع کروادی جس میں کہا گیا ہے کہ ڈی سی ایسٹ منتخب نمائندوں سے بذریعہ میسجز و کال رابطے میں نہیں تھے سانحہ کی ذمہ داری ان پر بھی عائد ہوتی ہے۔








