باقی دو تہائی قافلہ خوف کی موجوں پر سوار، خس و خاشاک کے تنکوں کا سا منظر پیش کرنے لگا، ہر وقت سکھوں ہندوؤں کے حملے کا خدشہ لگا رہتا تھا۔

مصنف: ع غ جانباز

قسط: 33

اَسی اثناء باقی دو تہائی قافلہ خوف کی موجوں پر سوار، خَس و خاشاک کے تنکوں کا سا منظر پیش کرنے لگا اور آخر راہواں قصبہ کی حدود کو جا چُھوا۔ جس کسی خاندان کو جہاں چند گز زمین نے اپنا دامن وا کیا وہاں ڈیرہ ڈال دیا۔

پناہ گزینی کی صورت حال

”راہوں“ قصبہ کے ریفیوجی کیمپ کی مجموعی صُورتِ حال دیکھنے میں اِتنی گھمبیر نہ تھی۔ یہ نہیں کہ سب لوگ اب اپنے آپ کو ایک محفوظ مقام پر پا رہے تھے یا وہاں سیکیورٹی کے کوئی ایسے انتظام کیے گئے تھے کہ اب ”سب اچھا ہے“ کا دَور دَورہ تھا۔ بلکہ یہ تو انتہائی مجبوری و مایوسی کی آخری حُدود سے تجاوز کرنے کے بعد…… آخری نتیجے پر پہنچنے کی نشاندہی تھی۔

ہر چہرہ دو رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ اندر سے پژ مردہ و پریشان …… باہر سے بجھتے چراغ کی آخری زور دار چمک کی طرح خنداں و فرحاں۔ دنیاوی اور دوسری سب خواہشات طاق میں رکھّی جا چکی تھیں اگر زندہ تھی تو صرف پیٹ کی آگ بجھانے کی سعیٔ پہیم۔

راہوں کا جغرافیائی پس منظر

”راہوں“ قصبہ دریائے بیاس کے کنارے واقع ہے۔ یاد رہے ”چوہدری عبد الرحمان خان“ راہوں کے ہی بڑے رقبوں کے مالک تھے۔ صوبائی اسمبلی کے 1946ء کے الیکشن میں کھڑے ہوئے تو مسلم لیگ کے امیدوار کے مقابلے میں ہار گئے۔ یہاں اکثر لوگوں کا ذریعہ معاش بھیڑ بکریوں کے ریوڑ پالنا تھا۔ صبح اُٹھ کر بکریوں کے ریوڑ دریا کی اطراف میں پھیلے بیلے کی طرف دھکیل دئیے جاتے تھے اور شام کو مالک کی سیٹی کی آواز سُنتے ہی سب بھیڑ بکریاں جنگل سے نکل کر اپنے ٹھکانے کی طرف لَوٹ آتیں۔

بکریوں کے ریوڑ کا حال

اب ایسی مَخدوش صُورتِ حال میں جب ہر طرف کُوچ کا ڈنکا بج رہا تھا، ظلم و بربرّیت ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے، ریوڑ مالکان اِن ریوڑوں کا کیا کرتے؟ ایک بکری 2 روپے میں لگا دی۔ آپ چلتے جائیں کیمپ کے بیچوں بیچ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب، آپ کو ہر جگہ ہر وقت لوگ بکریاں ذبح کرتے، گوشت بناتے، چھوٹے بڑے برتنوں میں گوشت پکاتے…… اور کھا کھا کر سیر ہوتے نظر آئیں گے۔

گوشت پر ہی کیا موقوف ہر رنگ کے چاول زردہ، پلاؤ اُڑایا جا رہا ہے۔ بھئی کیا قصّہ ہے کیا کہانی ہے؟ کوئی شادی بیا ہ ہے؟ کوئی دعوتِ ولیمہ ہے؟ کوئی برتھ ڈے پارٹی ہے؟ صاحب کچھ بھی تو نہیں۔ جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ جان ایک ہتھیلی پہ ہے تو دوسرے ہاتھ سے کھائے جا رہے ہیں کہ کہیں بھوکے پیٹ موت نہ آجائے۔ جیسے خالی پیٹ سیدھا دوزخ میں اور سیر شکم سب جنت الفردوس کو سُدھاریں گے۔

ایک رات کا واقعہ

ایک رات ایک عجیب و غریب صورتِ حال دیکھنے میں آئی۔ ہوا یُوں کہ کسی طرف سے شورو غل کی آوازیں آنے لگیں۔ اب ہر اِک کو اور تو کچھ سجھائی نہ دیتا تھا، ہر وقت سکھّوں ہندوؤں کی طرف سے کیمپ پر حملہ ہی کا خدشہ لگا رہتا تھا۔ لہٰذا اِس شور و غل کا مطلب یہی سمجھا گیا کہ اب وہ گھڑی آن پہنچی ہے۔

چنانچہ بجائے اِس کے لوگ اِدھر اُدھر دوڑ لگاتے کہ اپنی اپنی جان بچائیں، میں خود گواہ ہوں، ایک صحن میں مقیم پچاس کے پچاس زن و مرد، بچّے، بوڑھے اِس مکان کے برآمدے کے اندر دونوں کونوں میں ڈھیری ہوگئے۔ یہ انتہائی مایوسی و دل شکستگی کی کہانی ہے جس کو ہر ذهن سمجھنے سے قاصر ہے۔

شوروغل آخر کار ختم ہوا اور اُدھر سے لوگوں کا آنا جانا ہوا تو پتہ چلا کہ ایک جگہ سانپ نکل آیا تھا۔ اُس کو مارنے کے لیے دوڑنے والے لوگوں کا شور و غل تھا۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...