لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی تحقیق کے شعبے میں پہلی وومن یونیورسٹی بن گئی
لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی کی کامیابیاں
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی تحقیق و تالیف کے شعبے میں پہلی خواتین یونیورسٹی بن گئی۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں 475 تحقیقاتی مضامین، 75 ریسرچ پروپوزل اور 40 ملین کی ریسرچ گرانٹ حاصل کیں۔ ذاتی برس 200 اساتذہ کی تربیت، 5 پیٹنٹ درخواستیں، 30 نمائشیں اور 31 مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بلال بن ثاقب کی امریکی صدر مشیر برائے کرپٹو بوہائن سے ملاقات، ڈیجیٹل اثاثوں کی فروخت کیلئے تعاون پر تبادلہ خیال
تحقیقی رپورٹ کا اجمالی جائزہ
تفصیلات کے مطابق لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی (ایل سی ڈبلیو یو) کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) نے سال 2025 کے لیے اپنی ابتدائی سالانہ تحقیقی، جدتی اور کمرشلائزیشن رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں تحقیق، جدت اور ادارہ جاتی اشتراک کے شعبوں میں یونیورسٹی کی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والی وائٹ بال سیریز 2026 تک موخر
رپورٹ کی تیاری
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ رپورٹ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی قیادت اور ادارہ جاتی سرپرستی میں تیار کی گئی، جس میں 2025 کے دوران ایل سی ڈبلیو یو کی تحقیقی سرگرمیوں اور جدتی اقدامات کا جامع مگر مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے ابتدائی نتائج کے مطابق، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی نے تحقیق، مسابقتی فنڈنگ کے حصول، جدت اور قومی و بین الاقوامی سطح پر ادارہ جاتی تعاون کے شعبوں میں قابلِ ذکر کارکردگی دکھائی ہے، جو مختلف نمایاں کارکردگی اشاریوں میں واضح طور پر سامنے آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صحافیوں کی ٹرولنگ کرنے والوں کیخلاف حکومت نے انکوائری کا حکم دیا ہے:اعظم نذیر تارڑ
اہم تحقیقی شعبے
سالانہ رپورٹ میں توانائی اور موسمیاتی تبدیلی، سائنس و ٹیکنالوجی، اسٹیم اور خلائی علوم، سماجی علوم اور فنون جیسے اہم تحقیقی شعبوں میں یونیورسٹی کی شراکت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تحقیقی سرگرمیاں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) بالخصوص ہدف 3، 4، 5، 7، 9، 13 اور 17 سے ہم آہنگ ہیں۔
خواتین کی اعلیٰ تعلیم میں کردار
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ORIC کی یہ رپورٹ نہ صرف یونیورسٹی کی تحقیقی سمت کا تعین کرتی ہے بلکہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور سماجی ترقی میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔









