پنجاب کی عدالتوں میں جعلی مقدمات کی روک تھام کیلئے نیا بائیو میٹرک نظام نافذ
پنجاب کی عدالتوں میں نیا بائیو میٹرک نظام
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب کی عدالتوں میں جعلی مقدمات کی روک تھام کیلئے آج سے نیا بائیو میٹرک نظام نافذ کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 7 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کرنے والا سفاک ملزم گرفتار
نئے نظام کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پنجاب کی عدالتوں میں جعلی مقدمات اور فرضی ضمانتوں کی روک تھام کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت آج سے نیا بائیو میٹرک نظام نافذ کر دیا گیا ہے، اس منصوبے پر عملدرآمد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد شروع کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بیلاروس کے اعلیٰ سطح کے دفاعی وفد کا ایئر ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ایئر چیف مارشل ظہیر الدین بابر سدھو سے ملاقات
بائیو میٹرک تصدیق کی ضرورت
نوٹیفکیشن کے مطابق اب کسی بھی عدالتی کارروائی سے قبل تمام فریقین کی بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار دے دی گئی ہے، اس نظام کے تحت درخواست گزار، مدعا علیہ اور ضامن کو نادرا کے ذریعے اپنی بائیو میٹرک تصدیق کروانا ہوگی، بائیو میٹرک تصدیق کے بغیر کوئی بھی درخواست عدالت میں دائر نہیں کی جا سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اگر مائیک ہیسن کوچ رہا تو شاداب خان کو کپتان بنائیں گے، شاہد آفریدی
مقصد اور فوائد
عدالتی حکام کے مطابق بائیو میٹرک نظام نافذ کرنے کا مقصد جعلی مقدمات، فرضی ضمانتوں اور جعلی شناخت کے استعمال کا مکمل خاتمہ کرنا ہے تاکہ عدالتی نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو یورپ سے پاکستان واپس لاکر قانون کے مطابق کارروائی کا فیصلہ
وکلا تنظیموں کا ردعمل
وکلا تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بائیو میٹرک نظام سے عدالتی کارروائی میں شفافیت بڑھے گی اور اصل فریقین کی بروقت اور درست حاضری کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
ایک بڑی اصلاح
عدالتی حلقوں کے مطابق یہ اقدام عدالتی نظام میں ایک بڑی اصلاح تصور کیا جا رہا ہے جس کا سہرا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کو جاتا ہے.








