مسئلہ حل کر دیا ، اب لاپتہ افراد کا الزام ریاست پر نہیں ڈالا جا سکے گا: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان کا بیان
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کر دیا گیا ہے۔ اب لاپتہ افراد کا الزام ریاست پر نہیں ڈالا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان مسلم لیگ ن عجمان نے پاکستان کا 78واں جشن آزادی منایا
گڈ گورننس اور میرٹ کی ضرورت
سماجی رابطے کی سائٹ 'ایکس' پر جاری بیان میں سرفراز بگٹی نے کہا کہ گڈ گورننس اور میرٹ کے ذریعے ہم بلوچستان کی عوام کی محرومیوں کا ازالہ کر کے ان کو ریاست کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں۔ بلوچستان میں گورننس کی بہتری کے لیے ہم نے بلوچستان کابینہ کے اجلاس میں دو نئے ڈویژن، پشین اور کوہ سلیمان بنانے کی منظوری دے دی ہے۔ ساتھ ہی مزید ڈویژنز اور اضلاع بنانے پر بھی کام جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا سے ٹی ٹوئنٹی سریز میں وائٹ واش ہونے کے بعد قومی ٹیم کے کپتان کی گفتگو
مسنگ پرسنز کا مستقل حل
جیو نیوز کے مطابق، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کردیا گیا ہے۔ مختلف لوگوں نے مسنگ پرسنز کے ایشو پر صرف سیاست چمکائی، ریاست کو مورد الزام ٹھہرایا اور ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ہم نے پہلی دفعہ اس کا حل نکالا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششیں
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس مشتبہ افراد سے تفتیش کے لیے قانونی فریم ورک موجود ہے۔ اب لاپتہ افراد کا الزام ریاست پر نہیں ڈالا جا سکے گا۔ بلوچستان میں میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے ہم سرکاری ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل شروع کرنے جا رہے ہیں۔ جعلی ڈگری ہولڈرز کے خلاف ایف آئی آر اور سخت قانونی کاروائی ہو گی۔ اس عمل کا آغاز ڈیرہ بگٹی اور نصیرآباد سے ہوگا۔








