سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نے پیکا ترمیمی قانون اتفاق رائے سے منظور کرلیا
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس
اسلامآباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں پیکا قانون میں ترمیم کا بل زیر غور آیا۔
یہ بھی پڑھیں: ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، سیشن اور سینئر سول ججز سمیت 9 جوڈیشل افسران کو برخاست کردیا گیا
انوشہ رحمان کی وضاحت
انوشہ رحمان نے کہا کہ میرے پیش کیے گئے بل کے حق میں این سی سی آئی اے بھی ہے، سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پی ٹی اے اور این سی سی آئی اے کی درخواست پر قابل اعتراض مواد کو نہیں ہٹاتے تو کیا ہو گا؟
ڈی جی این سی سی آئی اے نے کہا کہ ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو تعاون کے لیے درخواست کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: الأقصر شہر دریائے نیل کے مشرقی کنارے آباد ہے، بازار وں میں قاہرہ کی طرح یہاں بھی جعلی اشیاء کا کاروبار عروج پر تھا، ٹریفک بھی زیادہ نہیں تھی.
قابل اعتراض مواد کا طریقہ کار
انوشہ رحمان نے کہا کہ میں ساری زندگی یہی سنتی آئی ہوں، ایک طریقہ کار ہونا چاہیے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیسے قابل اعتراض مواد ہٹائے گا، پہلے سروس پرووائیڈرز کہتے تھے جب تک قانونی طور پر جرم ثابت نہ مواد نہیں ہٹائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ویمنز ورلڈکپ میں پاکستان کا سفر بغیر کسی جیت کے ختم
وزیر مملکت طلال چودھری کا موقف
وزیر مملکت طلال چودھری نے کہا کہ سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی کون سی وزارت کو کرنا ہوتی ہے؟ انوشے رحمان نے کہا کہ یہ آئی ٹی منسٹری کا کام ہے، قانون تو آپ کے پاس ہے اس وقت۔
طلال چودھری نے کہا کہ ہم خود سوشل میڈیا متاثرین میں سے ہیں، پوری دنیا ہمارے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے کہ ہم آزادی اظہار رائے پر پابندی عائد کر رہے ہیں، دہشت گرد پہلے پستول استعمال کرتے تھے اب سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور سروس پرووائیڈرز کو پابند کیا جائے، آپ بھی آئی ٹی وزیر رہی ہیں آپ کو پتا ہے یہ کون کرتا ہے۔
پیکا ترمیمی قانون کی منظوری
بعدازاں سینیٹ کمیٹی داخلہ نے پیکا ترمیمی قانون اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔








