ٹرمپ کا ’’بورڈ آف پیس‘‘ کیا ہے؟

بورڈ آف پیس کا قیام

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے ایک نئی عالمی تنظیم ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد دنیا کے مختلف تنازعات کا حل بتایا جا رہا ہے، مگر اس کی رکنیت کی قیمت سن کر سفارتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے کئی ممالک کو دعوت دی ہے کہ اگر وہ ایک ارب ڈالر نقد ادا کریں تو انہیں اس بورڈ میں مستقل رکنیت دی جائے گی۔ یہ بات اس تنظیم کے باضابطہ چارٹر میں درج ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاسپورٹ بلاک ہونے کا معاملہ، وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی۔

بورڈ آف پیس کا مقصد کیا ہے؟

چہارتر کے مطابق، بورڈ آف پیس ایک ایسی بین الاقوامی تنظیم ہوگی جو:

  • تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں استحکام لائے گی
  • قابلِ اعتماد اور قانونی طرزِ حکمرانی بحال کرے گی
  • دیرپا امن کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی

ابتدا میں اس بورڈ کا تصور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے پیش کیا گیا تھا، تاہم چارٹر میں اس کے دائرۂ اختیار کو کسی ایک خطے تک محدود نہیں رکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا ؟

بورڈ کا سربراہ کون ہوگا؟

بورڈ آف پیس کے چیئرمین خود ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے، جو امریکا کے نمائندے کے طور پر بھی خدمات انجام دیں گے۔ انہیں مکمل اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ذیلی ادارے بنائیں، ختم کریں یا ان میں تبدیلی کریں۔

چیئرمین کو ہٹایا صرف استعفیٰ یا جسمانی/ذہنی نااہلی کی صورت میں جا سکے گا۔ چیئرمین کسی بھی قرارداد کو منظور یا مسترد کرنے کا حتمی اختیار رکھے گا، یعنی آخری فیصلہ بہرحال ٹرمپ ہی کا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: سیاسی عدم استحکام سے گریز کیا جائے ،بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت کو اہم تجویز دی ہے، شازیہ مری

ایگزیکٹو بورڈ میں کون شامل ہے؟

وائٹ ہاؤس کے مطابق، ایگزیکٹو بورڈ میں سات طاقتور شخصیات شامل ہوں گی:

  • امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کے خصوصی مذاکرات کار اسٹیو وِٹکوف
  • ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر
  • سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر
  • امریکی ارب پتی سرمایہ کار مارک رووان
  • ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا
  • نیشنل سکیورٹی کونسل کے رکن رابرٹ گیبریل

یہ بورڈ تنظیم کے عملی فیصلے کرے گا، مگر چیئرمین کی منظوری کے بغیر کچھ نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں گورنر راج نہیں لگایا جائے گا، طلال چوہدری کا اعلان

رکنیت کے اصول کیا ہیں؟

رکن ممالک کو امریکی صدر کی دعوت پر شامل ہونا ہوگا۔ ہر ملک کی نمائندگی اس کا سربراہِ مملکت یا حکومت کرے گا۔

عام رکنیت کی مدت تین سال ہوگی، مگر اگر کوئی ملک پہلے سال میں ایک ارب ڈالر ادا کر دے، تو اس پر مدت کی کوئی حد لاگو نہیں ہوگی۔

ہر ملک کو ایک ووٹ ملے گا، مگر فیصلے اکثریت سے ہوں گے۔ ٹائی کی صورت میں چیئرمین ووٹ ڈالے گا، اور ہر فیصلہ چیئرمین کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: سیاست میں بیعت نہیں: مولانا فضل الرحمان

کن ممالک کو شمولیت کی دعوت دی گئی ہے؟

  • چین
  • بھارت
  • روس
  • یوکرین
  • کینیڈا
  • مصر
  • ارجنٹینا
  • پاکستان
  • اردن
  • برازیل
  • متعدد یورپی، وسطی ایشیائی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک

یہ بھی پڑھیں: نیب، ایف آئی اے اور پولیس سے عمران خان کے خلاف مقدمات کی تفصیلات طلب

کون شامل ہو رہا ہے؟

ہنگری (وزیراعظم وکٹر اوربان)

متحدہ عرب امارات

کینیڈا (لیکن ایک ارب ڈالر دینے سے انکار)

دیگر ممالک جیسے آرمینیا، بیلاروس، قازقستان اور مراکش نے بھی شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے، مگر رقم دینے پر خاموشی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پارلیمانی نظام کا ہونا بہت ضروری ہے، اختیارات بانٹنے سے ہی چیزیں بہتر ہوتی ہیں: ملک احمد خان

کون شامل نہیں ہوگا؟

فرانس نے شرکت سے انکار کر دیا۔ جس پر ٹرمپ نے فوری طور پر فرانسیسی وائن پر بھاری ٹیرف لگانے کی دھمکی دے دی۔

یوکرینی صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ ’’روس کے ساتھ ایک ہی کونسل میں بیٹھنا بہت مشکل ہوگا‘‘

یہ بورڈ کب کام شروع کرے گا؟

چارٹر کے مطابق جیسے ہی تین ممالک تحریری رضامندی ظاہر کریں گے، بورڈ آف پیس نافذ العمل ہو جائے گا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...