میری بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی: چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم کی ضمانت
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: پہلے جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی سے مشاورت، پھر آصف زرداری نے کیسے پرویز مشرف کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا تھا؟ تہلکہ خیز دعویٰ
گرفتار ملزم اور مقدمہ
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، گرفتار ملزم محمد عرفان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی، جس میں عدالت نے ملزم کی ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں تاریخ رقم، پہلی مسلم نائب گورنر خاتون غزالہ ہاشمی نے قرآن پاک پر عہدے کا حلف اٹھالیا
ملزم کی سرگرمیاں
دورانِ سماعت، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم عرفان نے لڑکی کو اغوا اور گھر سے سونا و پیسے چوری کیے۔ اغوا ہونے والی لڑکی کی عمر 16 سال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہریوں کو موبائل فون پر موسمی صورتحال کی پیشگی اطلاع دی جائے، وزیراعظم کی ہدایت
ملزم کے وکیل کا مؤقف
ملزم کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ لڑکی نے ملزم سے کورٹ میرج کی ہے۔ مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔ کورٹ میرج کرنے والی لڑکی جڑواں بہنیں ہیں اور دوسری بہن کی 3 سال پہلے شادی ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی نے دو مطالبات رکھے ہیں، سپریم کورٹ کے ججز کے نیچے جے آئی ٹی بنائی جائے،علیمہ خان
جسٹس کا سوال اور جواب
جسٹس ہاشم کاکڑ نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ آپ فیملی ٹری نہ نکالیں، کیا آپ چاہتے ہیں اُن کے خلاف بھی کارروائی ہو؟ بچی 3 بار مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو چکی ہے اور بیان میں واضح کر چکی ہے کہ مرضی سے شادی کی۔ جب میاں بیوی راضی ہیں تو کیا ایشو ہے؟
یہ بھی پڑھیں: امریکا سفارتکاری کی زبان نہیں سمجھتا، کئی بار اس کا ثبوت دے چکا ہے، سربراہ ایرانی سٹرٹیجک کونسل کمال خرازی
ملزم کی گرفتاری کی مدت
عدالت کے استفسار پر وکیل نے بتایا کہ ملزم جون 2025 سے گرفتار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 19 سال بعد رنگ میں اترنے والے مائیک ٹائی سن کو پہلے میچ میں شکست
چائلڈ میرج ایکٹ کی سزا
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے پوچھا کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مقدمہ چلے گا، چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت کتنی سزا ہے؟ جس پر پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت 16 سال 4 ماہ سزا ہے۔
عدالت کا فیصلہ
بعد ازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔








