میری بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی: چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم کی ضمانت
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: چمن اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 3.3 ریکارڈ
گرفتار ملزم اور مقدمہ
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، گرفتار ملزم محمد عرفان کی ضمانت کی درخواست پر سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی، جس میں عدالت نے ملزم کی ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کو پاکستان میں مسلسل بدعنوانی کے خدشات، گورننس اینڈ کرپشن رپورٹ جاری
ملزم کی سرگرمیاں
دورانِ سماعت، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم عرفان نے لڑکی کو اغوا اور گھر سے سونا و پیسے چوری کیے۔ اغوا ہونے والی لڑکی کی عمر 16 سال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں دفعہ 144 نافذ
ملزم کے وکیل کا مؤقف
ملزم کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ لڑکی نے ملزم سے کورٹ میرج کی ہے۔ مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔ کورٹ میرج کرنے والی لڑکی جڑواں بہنیں ہیں اور دوسری بہن کی 3 سال پہلے شادی ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ججوں کی سینیارٹی لسٹ دہائیوں میں بنتی ہے،راتوں رات سینیارٹی لسٹ ایگزیکٹو کے ذریعے تبدیل کرنا غاصبانہ عمل ہے،وکیل فیصل صدیقی۔
جسٹس کا سوال اور جواب
جسٹس ہاشم کاکڑ نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ آپ فیملی ٹری نہ نکالیں، کیا آپ چاہتے ہیں اُن کے خلاف بھی کارروائی ہو؟ بچی 3 بار مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو چکی ہے اور بیان میں واضح کر چکی ہے کہ مرضی سے شادی کی۔ جب میاں بیوی راضی ہیں تو کیا ایشو ہے؟
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے کل ملاقات کرنے والوں کی فہرست جیل حکام کو ارسال
ملزم کی گرفتاری کی مدت
عدالت کے استفسار پر وکیل نے بتایا کہ ملزم جون 2025 سے گرفتار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کا سندھ اسمبلی میں سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت کی نااہلی پر احتجاج، ایوان سے واک آؤٹ کردیا
چائلڈ میرج ایکٹ کی سزا
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے پوچھا کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مقدمہ چلے گا، چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت کتنی سزا ہے؟ جس پر پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت 16 سال 4 ماہ سزا ہے۔
عدالت کا فیصلہ
بعد ازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔








