پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی
پاکستان کی شمولیت برائے بورڈ آف پیس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کےلیے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کرنے کی تصدیق کردی۔ ترجمان دفترخارجہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہبازشریف کو بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سمیت سندھ میں سی این جی بندش کا اعلان
غزہ امن منصوبہ کی حمایت
ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا، بورڈ آف پیس کا مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان نے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے، اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے کرپٹو کے شعبے میں جو کام مہینوں پہلے کردیا، اسرائیل وہ کرنے کا اب سوچ رہا ہے۔
آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت
ترجمان کے مطابق پاکستان آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، اور اس کا مؤقف ہے کہ 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
یہ بھی پڑھیں: گووند نام دیو نے شیوانگی ورما سے رومانوی تعلق پر خاموشی توڑدی
تعمیری کردار اور امیدیں
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے دکھ درد کے خاتمے کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ بورڈ آف پیس کے پلیٹ فارم سے امن کے لیے عملی پیش رفت کی امید ہے۔
امریکہ کا عالمی رہنماؤں سے مطالبہ
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق، امریکہ مختلف عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم اس بورڈ کا حصہ بنیں، جس میں مستقل نشست کے لیے ایک ارب ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر اس بورڈ کا مقصد غزہ کی بحالی کے امور کی نگرانی بتایا گیا تھا، تاہم اس کے چارٹر میں اس کے دائرۂ کار کو صرف غزہ تک محدود نہیں کیا گیا۔ خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ دستاویزات کے مطابق یہ ادارہ اقوامِ متحدہ کے متبادل یا حریف کے طور پر ابھرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔








