سپریم کورٹ کا سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ
سزائے موت کی زیر التواء اپیلوں کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کو الفا میل اور مودی کو الفا میل کا باپ کہنے والی کنگنا رناوت کو منہ کی کھانا پڑ گئی۔
اجلاس کی تفصیلات
سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس منعقد ہوا، جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، سیکریٹری اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، 12 سالہ بچے سے مسجد میں مبینہ زیادتی، مقدمہ درج
کیس کی کیٹیگرائیزیشن
اجلاس میں بتایا گیا کہ کیس کیٹیگرائیزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو جائے گا اور مقدمات کی فائلوں پر ٹریکنگ فائلز کے لیے بار کوڈنگ سسٹم اگلے 15 دنوں میں مکمل ہوجائے گا۔ اجلاس کے دوران سزائے موت اور فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عام انتخابات 2024 کے بعد ووٹرز کی تعداد میں 60 لاکھ کا اضافہ
زیر التواء اپیلوں کا جائزہ
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ جب چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے منصب سنبھالا تو سزائے موت کی زیر التوا اپیلیں 26 اکتوبر 2024 کو 384 تھیں، اور اب یہ تعداد 107 رہ گئی ہے۔ 26 اکتوبر 2024 سے لے کر اب تک سزائے موت کی 172 نئی اپیلیں دائر ہوئیں جبکہ 449 اپیلیں نمٹائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس ادا کیے بغیر فوائد سمیٹنے والوں کی بھرمار، ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح مزید کم
نئی فیصلوں کے مطابق اقدامات
چیف جسٹس کی زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سزائے موت کی زیر التوا تمام اپیلیں اگلے 45 دنوں میں سن کر نمٹائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی بین الاقوامی مارشل آرٹس کھلاڑی ’روہنی‘ نے خودکشی کر لی
عمر قید کی اپیلوں کی صورتحال
بریفنگ میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس نے جب منصب سنبھالا تو عمر قید کی زیر التوا اپیلوں کی تعداد 4160 تھی جو کم ہو کر 3608 رہ گئی ہیں۔ تاہم، عمر قید کی اپیلوں کو نمٹانے کی ٹائم لائنز سزائے موت کی اپیلیں نمٹانے کے بعد طے کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: 1962 میں لاپتہ ہونے والی خاتون 6 دہائیوں بعد زندہ سلامت مل گئی
ترجیحات اور ڈیجیٹلائزیشن
فیصلہ کیا گیا کہ 80 سال یا اس سے زائد عمر کے سزا یافتہ ملزمان کی جیل پٹیشنز ترجیحی بنیاد پر فکس ہوں گی۔ بتایا گیا کہ عدالتی ریکارڈ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹلائز ہو چکا ہے۔
چیف جسٹس کا شکریہ
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پٹیشنز کی سافٹ کاپیز اور ای فائلنگ پر بار کا شکریہ ادا کیا۔








