سپریم کورٹ کا سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ
سزائے موت کی زیر التواء اپیلوں کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: بولیویا: مسلح گروپ نے بیرکوں پر حملہ کرکے 200 فوجیوں کو اغوا کرلیا
اجلاس کی تفصیلات
سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس منعقد ہوا، جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، سیکریٹری اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: سانحۂ سوات، ہیلی کاپٹر سروس کیوں فراہم نہیں کی گئی؟ بیرسٹر سیف نے وجہ بتا دی۔
کیس کی کیٹیگرائیزیشن
اجلاس میں بتایا گیا کہ کیس کیٹیگرائیزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو جائے گا اور مقدمات کی فائلوں پر ٹریکنگ فائلز کے لیے بار کوڈنگ سسٹم اگلے 15 دنوں میں مکمل ہوجائے گا۔ اجلاس کے دوران سزائے موت اور فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں شدید سردی کے باعث اسکولوں اور کالجوں کی چھٹیوں میں ایک ہفتے کی توسیع کا اعلان
زیر التواء اپیلوں کا جائزہ
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ جب چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے منصب سنبھالا تو سزائے موت کی زیر التوا اپیلیں 26 اکتوبر 2024 کو 384 تھیں، اور اب یہ تعداد 107 رہ گئی ہے۔ 26 اکتوبر 2024 سے لے کر اب تک سزائے موت کی 172 نئی اپیلیں دائر ہوئیں جبکہ 449 اپیلیں نمٹائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی مجموعی تعداد 51 کروڑ سے بھی تجاوز کرگئی، پی ٹی اے کی رپورٹ جاری
نئی فیصلوں کے مطابق اقدامات
چیف جسٹس کی زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سزائے موت کی زیر التوا تمام اپیلیں اگلے 45 دنوں میں سن کر نمٹائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: کرتارپور رہداری کے افتتاح پر عمران خان کو سونے لوٹاملا جو وہ گھر لے گئے اور اس کی جگہ پر پیتل کے لوٹے پر سونے کا پانی چڑھا کر توشہ خانہ میں جمع کرادیا، فیاض الحسن چوہان کا الزام
عمر قید کی اپیلوں کی صورتحال
بریفنگ میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس نے جب منصب سنبھالا تو عمر قید کی زیر التوا اپیلوں کی تعداد 4160 تھی جو کم ہو کر 3608 رہ گئی ہیں۔ تاہم، عمر قید کی اپیلوں کو نمٹانے کی ٹائم لائنز سزائے موت کی اپیلیں نمٹانے کے بعد طے کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ہیرو نعمان علی نے انگلینڈ کیخلاف کامیابی کے بعد اپنے بارے میں حیران کن انکشاف کر دیا
ترجیحات اور ڈیجیٹلائزیشن
فیصلہ کیا گیا کہ 80 سال یا اس سے زائد عمر کے سزا یافتہ ملزمان کی جیل پٹیشنز ترجیحی بنیاد پر فکس ہوں گی۔ بتایا گیا کہ عدالتی ریکارڈ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹلائز ہو چکا ہے۔
چیف جسٹس کا شکریہ
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پٹیشنز کی سافٹ کاپیز اور ای فائلنگ پر بار کا شکریہ ادا کیا۔








