سپریم کورٹ کا سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ
سزائے موت کی زیر التواء اپیلوں کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہر جگہ کرپشن عام ہے، سسٹم میں سسٹم عروج پر ہے، اگر سندھ کو مافیا سے بچانا ہے تو ہمیں باہر نکلنا پڑے گا، حلیم عادل شیخ
اجلاس کی تفصیلات
سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس منعقد ہوا، جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، سیکریٹری اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بینک آف پنجاب نے 30 ستمبر، 2025 تک 9 ماہ میں آپریٹنگ منافع میں شاندار 156 فیصد ریکارڈ اضافہ کیا
کیس کی کیٹیگرائیزیشن
اجلاس میں بتایا گیا کہ کیس کیٹیگرائیزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو جائے گا اور مقدمات کی فائلوں پر ٹریکنگ فائلز کے لیے بار کوڈنگ سسٹم اگلے 15 دنوں میں مکمل ہوجائے گا۔ اجلاس کے دوران سزائے موت اور فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یہ وقت اُمت میں اتحاد و یکجہتی پیدا کرنے کا ہے: ڈاکٹر طاہر القادری کا 10 ہزار سے زائد علماء , مشائخ اور خواتین مذہبی سکالرز سے خطاب
زیر التواء اپیلوں کا جائزہ
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ جب چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے منصب سنبھالا تو سزائے موت کی زیر التوا اپیلیں 26 اکتوبر 2024 کو 384 تھیں، اور اب یہ تعداد 107 رہ گئی ہے۔ 26 اکتوبر 2024 سے لے کر اب تک سزائے موت کی 172 نئی اپیلیں دائر ہوئیں جبکہ 449 اپیلیں نمٹائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: کل کے جلسے میں کیا ہوا اور کیوں ہوا۔۔۔؟ پی ٹی آئی پشاور کے صدر کا ردعمل بھی آ گیا
نئی فیصلوں کے مطابق اقدامات
چیف جسٹس کی زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سزائے موت کی زیر التوا تمام اپیلیں اگلے 45 دنوں میں سن کر نمٹائی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: میرا اصولی موقف ہے میں کوئی کیس ٹرانسفر نہیں کروں گا، جسٹس محسن اختر کیانی کے ایک سے دوسرے بنچ میں کیسز ٹرانسفر کرنے پر ریمارکس
عمر قید کی اپیلوں کی صورتحال
بریفنگ میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس نے جب منصب سنبھالا تو عمر قید کی زیر التوا اپیلوں کی تعداد 4160 تھی جو کم ہو کر 3608 رہ گئی ہیں۔ تاہم، عمر قید کی اپیلوں کو نمٹانے کی ٹائم لائنز سزائے موت کی اپیلیں نمٹانے کے بعد طے کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: زیادہ تر شہروں میں درجہ حرارت میں اضافہ ہونے کا امکان، کچھ جگہوں پر ہلکی بارش کی توقع
ترجیحات اور ڈیجیٹلائزیشن
فیصلہ کیا گیا کہ 80 سال یا اس سے زائد عمر کے سزا یافتہ ملزمان کی جیل پٹیشنز ترجیحی بنیاد پر فکس ہوں گی۔ بتایا گیا کہ عدالتی ریکارڈ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹلائز ہو چکا ہے۔
چیف جسٹس کا شکریہ
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پٹیشنز کی سافٹ کاپیز اور ای فائلنگ پر بار کا شکریہ ادا کیا۔








