عوام کو بلدیاتی اداروں کی معرفت با اختیار کریں، اداروں کو نوکر شاہی کے تابع نہ رکھیں ،معاشرہ مطمئن ہوگا تو ملک مضبوط ہو گا،خواجہ محمد آصف
بلدیاتی حکومتوں کی بااختیاری: وفاقی وزیر کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار کرنے کا مطلب ہے کہ ہم حکومت کو عام آدمی کی دہلیز پہ لے کر جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نادرا کا عوام کے لیے ایک اور سہولت فراہم کرنے کا اعلان
عوامی حکمرانی کا تصور
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ 25 کروڑ عوام کو کراچی، لاہور، کوئٹہ، اور پشاور کی حکومتیں عام آدمی کو لوکل گورنمنٹ کے ذریعے میسر ہوں گی۔ 18 ترمیم کے باوجود اس نظام کو فعال نہ بنا سکے کیونکہ خلوص کی کمی رہی۔ عوام بجائے نوکر شاہی کے محتاج ہونے (جو مختصر مدت کے لئے عہدوں پہ آتے ہیں) اپنے ووٹ سے بااختیار نمائندے اور ادارے منتخب کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آذربائیجان کا پاکستان کی مکمل حمایت، ساتھ دینے کا اعلان
عوامی خدمات کی فراہمی
اور اگر وہ ڈیلیور نہیں کریں گے تو عام آدمی اس کے گریبان تک پہنچ سکے گا۔ پانی کی فراہمی، فائر بریگیڈ، صفائی، ابتدائی تعلیمی ادارے، صحت، پانی کی نکاسی، تجاوزات، لوکل سڑکیں وغیرہ سب عام آدمی کو لوکل گورنمنٹ میسر کرے گی۔ یہ اپنا ٹیکس کا نظام ترتیب دے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کے انتقال پر اظہار افسوس
بین الاقوامی تجربات اور مثالیں
دنیا میں ایسی بے شمار مثالیں ہیں کہ ایک حد تک عدالتی نظام اور پولیس بھی منتخب لوکل حکومتوں کے اختیار میں ہے۔ کمزور اور نحیف بلدیاتی ادارے ڈیلیور نہیں کرتے، ان سے سیاسی نقصان ہوتا ہے، فائدہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جوا ایپ کی تشہیر کا معاملہ، معروف یوٹیوبر مدثر حسن لاہور سے گرفتار
عوام کی عملداری کی ضرورت
بلدیاتی اداروں کی مضبوطی عوام کی عملداری ممکن بنائے گی، بے چینی کو کم کرتی ہے، اور حکومت اور عوام میں تعلق مضبوط اور پائیدار بنانے کا باعث ہو گی۔ عوام کو بلدیاتی اداروں کی معرفت بااختیار کریں۔ ان اداروں کو نوکر شاہی کے تابع نہ رکھیں۔
معاشرتی اور قومی استحکام
اگر معاشرہ مطمئن ہوگا تو ملک مضبوط ہو گا۔
بلدیاتی حکومتوں کو empower اور بااختیار کرنے کا مطلب ہے کہ ہم حکومت کو عام آدمی کی دہلیز پہ لے کر جا رہے ہیں۔ 25 کروڑ عوام کو کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور کی حکومتیں عام آدمی کو لوکل گورنمنٹ کے ذریعے میسر ہوں گی۔ 18 ترمیم کے باوجود اس نظام کو فعال نہ بنا سکے، خلوص کی کمی رہی۔ عوام بجائے…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) January 21, 2026








