چوتھی چوہدری نذیر احمد میموریل پنجاب جونیئر ٹینس چیمپئن شپ کا لاہور میں آغاز
چوتھی چوہدری نذیر احمد میموریل پنجاب جونیئر ٹینس چیمپئن شپ 2026 کا آغاز
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) چوتھی چوہدری نذیر احمد میموریل پنجاب جونیئر ٹینس چیمپئن شپ 2026 کا باقاعدہ آغاز منگل کے روز پنجاب ٹینس اکیڈمی، باغِ جناح، لاہور میں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین نے پاکستان کے لیے 30 لاکھ یورو کی اضافی ہنگامی امداد کا اعلان کردیا
افتتاحی تقریب
افتتاحی تقریب کی مہمانِ خصوصی بیگم نصرت نذیر تھیں، جبکہ مسٹر عمران نذیر نے ٹورنامنٹ ڈائریکٹر کے فرائض انجام دیے۔ تقریب میں ٹینس حلقوں کی متعدد نمایاں شخصیات نے شرکت کی جن میں خرم نذیر، ریحان قریشی اور عروصہ خرم شامل تھے، جبکہ کھلاڑیوں کے والدین، کوچز، آفیشلز اور میڈیا نمائندگان کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سب کو ہوسٹل سے نکال دیا گیا، ایک ”وڈیرہ“ ڈٹا رہا،گارنٹی دیتے ہیں لڑکے شرارت نہیں کریں گے، امن سے رہیں گے، موت کا سا سکوت ہوتا تھا
ٹورنامنٹ کی انتظامی تفصیلات
فہیم صدیقی ٹورنامنٹ میں ریفری کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور بین الاقوامی ٹینس قوانین اور معیار کی مکمل پابندی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ چیمپئن شپ میں پنجاب بھر سے باصلاحیت جونیئر لڑکوں اور لڑکیوں کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں نے بھارتی غاصبانہ قبضے کو کبھی قبول نہیں کیا: کشمیری عوام
ڈائریکٹر کا خطاب
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ٹورنامنٹ ڈائریکٹر عمران نذیر نے تمام کھلاڑیوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور نوجوان کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ جوش، نظم و ضبط اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے ساتھ مقابلہ کریں۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو بڑے خواب دیکھنے اور مستقبل میں پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر سفیر بننے کی تلقین کی۔
یہ بھی پڑھیں: میر علی میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن ، دو خوارج ہلاک
مقابلوں کے نتائج
بوائز انڈر 18 کے پہلے راؤنڈ میں امیر مزاری نے اجمل کو 0-6، آلائے حسنین نے مہاد راشد کو 0-6، ہادی عادل نے فیضان حیدر کو 1-6، عبدالوہاب نے موسیٰ ریاض کو 1-6 سے شکست دی۔ عتیق الرحمٰن واک اوور پر کامیاب رہے، جبکہ ریحان خان نے نائل عمران کو 4-6 اور بلال اویس نے علی منتظم کو 1-6 سے ہرایا۔
بوائز انڈر 12 کیٹیگری
بوائز انڈر 12 کیٹیگری میں دانیال افضل ملک نے فہد مصطفیٰ کو 0-6 سے شکست دی۔ افتتاحی روز کے مقابلے دیکھنے کے لیے شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی، جس سے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزا اور پرجوش ماحول دیکھنے میں آیا۔








