برطرف اور ڈیلی ویجر ملازمین سے متعلق سفارشات پر عمل درآمد روکنے کا فیصلہ برقرار
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے برطرف ملازمین کی سفارشات پر عمل درآمد روکنے کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: غیر قانونی کرنسی میں ملوث بینک منیجر سمیت 4ملزمان گرفتار، کروڑوں مالیت کی رقم برآمد
انٹرا کورٹ اپیل کا فیصلہ
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق ڈویژن بینچ نے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں مسترد کردیں۔ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے اپیلوں کو میرٹ کے خلاف قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اجتماعی شادیوں کے نام پر کم عمر لڑکیوں کی ڈھائی سے 5 لاکھ روپے میں فروخت کا انکشاف
کمیٹی کی کارروائی کی قانونی حیثیت
عدالت نے قرار دیا کہ کمیٹی کی کارروائی ایڈوائزری کردار اور رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی حد تک محدود تھی۔ اس حد تک کمیٹی کی کارروائی کو آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کے مطابق قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم خصوصی کمیٹی کی اداروں کے سربراہان کو ملازمین کی بحالی و مستقلی کی ہدایات قانون کے مطابق نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا اسرائیل کے 2 لڑاکا طیارے مار گرانے کا دعویٰ
ملازمین کی سنیارٹی اور تنخواہوں کا معاملہ
فیصلے کے مطابق ملازمین کی سنیارٹی اور تنخواہوں کے تعین کی ہدایات بھی دائرہ اختیار اور قانون کے مطابق نہیں ہیں۔ ایسے اقدامات کو محض بے ضابطگی قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ اقدام آئینی قانونی فریم ورک کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: والد نے مجھے گاؤں کی زرعی زمین پر لے جا کر چند فصلوں کی پہچان کروائی، ہر ماہ مدرسے کے طالبعلموں کو کھانا کھلاتے، مسجد میں زکوٰۃ و صدقات باقاعدگی سے بھیجتے ہیں۔
انتظامیہ اور عدالت کے اختیارات میں مداخلت
عدالت نے قرار دیا کہ خصوصی کمیٹی کے اقدامات انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔ خصوصی کمیٹی کی جانب سے جاری ہدایات سول سرونٹس ایکٹ اور رولز کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ سنگل بینچ کا خصوصی کمیٹی کی ہدایات کو غیر قانونی قرار دینا بالکل درست تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 5131 غلط افراد کو ای او بی آئی کی مد میں 2 ارب 79 کروڑ روپے دیے جانے کا انکشاف
متعلقہ اداروں کے اختیارات
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ ادارے بذات خود ملازمین کی سروس کی مستقلی، ریگولرائز یا بحالی کا اختیار رکھتے تھے۔ خصوصی کمیٹی کی ہدایات کی بنیاد پر استعمال کیے گئے اختیارات کو قانونی تحفظ حاصل نہیں، عدالت ان اداروں کو ایسے کیسز پر دوبارہ غور کے لیے کوئی ہدایات جاری نہیں کرے گی۔ ایسا کرنا مکمل طور پر ان اداروں کے اپنے دائرہ اختیار اور صوابدید میں آتا ہے، اگر وہ چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔
خصوصی کمیٹی کی ہدایات
واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے کنٹریکٹ، ڈیلی ویجر اور پروجیکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ ملازمین کی بحالی و مستقلی کے لیے خصوصی کمیٹی برائے برطرف ملازمین کے چیئرمین قادر مندوخیل تھے.








