گل پلازہ میں آگ شاٹ سرکٹ سے نہیں بلکہ ماچس یا لائٹر سے لگائی گئی، سانحہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کر لی گئی۔
ابتدائی رپورٹ کی تیاری
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) تحقیقاتی حکام نے سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی رپورٹ عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کی مدد سے تیار کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ میں صدارتی انتخابات: واشنگٹن میں انتخابی ماحول اور تیاریوں کا جائزہ
آتشزدگی کا سبب
نجی ٹی وی جیونیوز نے تحقیقاتی ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ گل پلازہ میں آگ مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگی۔ دکان میں موجود بچوں کے کھیلنے کے دوران آگ لگی اور ممکنہ طور پر بچے دکان میں ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے۔ ابتدائی طور پر آگ دکان میں موجود سامان میں لگی اور یہ بجلی کی تاروں میں پھیل گئی۔
آگ سے متاثرہ حالات
آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی، آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد خارجی راستوں کی طرف بھاگے، لیکن عمارت کے دروازے بند ہونے کی وجہ سے بھگدڑ مچی۔ عمارت میں زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی تھیں اور عمارت کی چھت کے راستے پر بھی گرل لگی ہوئی تھی۔ آگ لگنے سے عمارت میں موجود سی سی ٹی وی سسٹم مکمل طور پر متاثر ہوا ہے۔








