چین نے امریکا اور تائیوان کے درمیان تجارتی معاہدہ علاقے کی فروخت قرار دیدیا
چین کی تائیوان اور امریکا کے تجارتی معاہدے پر تنقید
بیجنگ (آئی این پی) چین نے تائیوان اور امریکا کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے اسے علاقے کی فروخت کا معاہدہ قرار دے دیا۔ عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، تائیوان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) پر عوام کی فلاح و بہبود کو خطرے میں ڈالنے اور صنعتی ترقی کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس نے پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرلی
چین کا موقف
مقامی میڈیا کے مطابق، چین کی سٹیٹ کونسل کے تائیوان امور کے دفتر کے ترجمان پینگ چِنگ اِن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ تجارتی مذاکرات امریکا کے شدید دباؤ میں کئے گئے ہیں، جہاں امریکا نے ٹیرف کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے تائیوان کو اپنی سرمایہ کاری امریکا میں نمایاں طور پر بڑھانے پر مجبور کیا، جس سے تائیوان کی مسابقتی صنعتیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 1. آپ کے سامنے لیڈر ہیں اور ان کا حشر بھی، باتوں کو شاید سنجیدگی سے نہیں لیا، تابع داری کی گزارشات رد ہو چکی تھیں، آدمی کو دوسرا موقع ملنا چاہیے تیسرا کبھی نہیں
معاہدے کی شرائط
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اس معاہدے کو اقتصادی غنڈہ گردی کے سامنے مکمل ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ معاہدے کے تحت، امریکا نے تائیوان سے درآمد کی جانے والی اشیا پر ٹیرف کی شرح کم کرکے 15 فیصد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
تائیوان کی سرمایہ کاری کے وعدے
رپورٹ میں مزید ذکر کیا گیا ہے کہ اس کے بدلے میں تائیوان نے 250 ارب ڈالر امریکا میں سرمایہ کاری کرنے، خصوصا سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں اور 250 ارب ڈالر سے زائد کے کریڈٹ گارنٹیز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اگرچہ ڈی پی پی کے عہدیدار اس معاہدے کو بہترین ڈیل قرار دے رہے ہیں، تاہم پینگ چِنگ اِن نے نشاندہی کی کہ تائیوان مجموعی طور پر 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا پابند ہو رہا ہے اور اپنے سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کے 40 فیصد حصے کو امریکا منتقل کرنے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔








