1. 8 فروری کے احتجاج پر حکومت اور لوگوں کی نظریں ہیں، اگر احتجاج ناکام ہو گیا تو پی ٹی آئی کو دھچکا لگے گا، شیرافضل مروت
شیرافضل مروت کا احتجاج پر بیان
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) رکن قومی اسمبلی شیرافضل مروت کا کہنا ہے کہ 8 فروری کے احتجاج پر حکومت اور لوگوں کی نظریں ہیں۔ اگر پی ٹی آئی زیادہ تعداد میں لوگ نکالنے میں کامیاب ہوئی تو مذاکرات کا مستقبل روشن ہوگا اور اگر احتجاج ناکام ہوگیا تو پی ٹی آئی کو دھچکا لگے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف مختصر دورے پر لندن پہنچ گئے
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو
پشاور ہائیکورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے مابین مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے، ضرورت تب ہوگی جب پی ٹی آئی سے احتجاجی سیاست کا خدشہ ہو۔ اگر 8 فروری کو احتجاج قابل ذکر نہ ہوا تو میرا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کو دھچکا لگے گا اور دوبارہ احتجاج کی صلاحیت بہتر بنانے میں انہیں 6 ماہ تک لگ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شیخ امتیاز نااہلی ریفرنس؛ وکیل لطیف کھوسہ نے شہریت چھوڑنے کا کینیڈین سفارتخانے کا خط الیکشن کمیشن میں جمع کرا دیا
اپوزیشن لیڈر کی تقرریوں کی تاخیر
انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرریاں کافی دیر سے ہوئی ہیں، ایوان اپوزیشن لیڈر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، اس پر پانچ ماہ لگے، یہ کام پانچ ماہ قبل بھی ہو سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے مقامی فون کی پیداوار میں اہم سنگ میل عبور کرلیا
مذاکرات کے لیے سیاسی قیدیوں کی رہائی
شیر افضل مروت نے کہا کہ مذاکرات سے پہلے اگر سیاسی قیدیوں کی رہائی، بانی چیئرمین کی ملاقاتیں بحال، اور انہیں ڈاکٹر و فیملی کی رسائی ہو، لوگوں کو آزادی ہو اور تمام سیاسی جماعتیں جلسے کریں تو ملک کے لئے بہتر ہوگا۔ اس وقت غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں یہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد علی رندھاوا — عوامی خدمت، دیانت اور قیادت کی روشن مثال
قانون کی حکمرانی کی ضرورت
ملک میں قانون کی حکمرانی ہر پارٹی کی ضرورت ہے لیکن کسی بھی قوم اور معاشرے کی ترقی قانون کی حکمرانی میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب
احتجاج کی کامیابی کی شرط
انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو احتجاج کی کامیابی کا انحصار اس کی پلاننگ پر ہوگا کہ وہ کس طرح گھروں سے نکالتے ہیں۔ ابھی تک احتجاج کی خدوخال بھی سامنے نہیں آئی ہیں کہ یہ لوگ کس طرح کا احتجاج کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے دو ٹوک مؤقف کی عالمی سطح پر پذیرائی ہو رہی ہے، چین سے دوستی بھی درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے: عالمی جریدہ
پی ٹی آئی کے احتجاج کے طریقہ کار
شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پہیہ جام اور شٹرڈاون کا اعلان کیا گیا ہے، کہ ان کا احتجاج صرف خیبر پختون خوا میں ہوگا، یہ ملک بھر میں ہوگا، کیا پی ٹی آئی جلسہ بھی کرے گی کہ نہیں، عوام کو اس سے آگاہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی دھمکی کے بعد بھارت نے ایف 35 طیارے خریدنے میں عدم دلچسپی ظاہر کر دی
ضلع میں فنڈز کی روک تھام
میرے علاقے کے فنڈز کو روکا گیا ہے اور اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے، عدالت نے اس پر حکم امتناعی بھی جاری کیا ہے کہ میرے حلقے کے فنڈز واپس نہ کیے جائیں۔
تیراہ آپریشن پر تبصرہ
انہوں نے کہا کہ تیراہ آپریشن صوبائی حکومت کی مرضی سے نہیں ہو رہا، لیکن تیراہ آپریشن کو بھی دیکھنا چاہیے کہ وہاں پر حالات کیسے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اگر آپریشن کی ضرورت ہے تو پھر عوام اور حکومت کو پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔








