متنازع ٹویٹس کیس، سیشن عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا
اسلام آباد میں متنازع ٹویٹس کیس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو کل ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ ٹو میں سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کی درخواست
عدالت کی سماعت
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس سے متعلق کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی۔ سماعت کے دوران دونوں ملزمان عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر عدالت نے پہلے ساڑھے گیارہ بجے اور بعد ازاں ڈھائی بجے تک سماعت میں وقفہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال
ملزمان کی عدم موجودگی
دورانِ سماعت جج افضل مجوکہ نے استفسار کیا کہ ملزمان کہاں ہیں؟ جس پر پراسیکیوشن نے بتایا کہ ملزمان جان بوجھ کر اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر کے دفتر میں موجود ہیں۔ پراسیکیوشن نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، تاہم جج نے ریمارکس دیے کہ ان کے پاس احکامات جاری کرنے کے مکمل اختیارات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی درخواستوں پروکیل الیکشن کمیشن نے عدالتی دائرہ اختیار کا اعتراض عائد کردیا
دوسری رات کی گزاری گئی
پراسیکیوشن کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ متعدد بار کیس کال ہونے کے باوجود عدالت پیش نہیں ہوئے، نہ ہی ان کے وکلاء عدالت میں موجود تھے۔ پراسیکیوشن نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ کی ہدایات کے باوجود ملزمان عدالت میں پیش نہیں ہو رہے، لہٰذا ان کی ضمانت خارج کر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک سوزوکی نے لاہور میں بائیو فیول پلانٹ کا سنگِ بنیاد رکھ دیا، کار مالکان کے لیے پٹرول کا انتہائی سستا متبادل
ایمان مزاری کا بیان
اس موقع پر ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی رعایت نہیں چاہیے، ہم خود کو سرینڈر کرنے کے لیے بیٹھے ہیں، ہم خود چل کر جائیں گے، بس ہمیں یہ بتایا جائے کہ ہمارے خلاف کتنے مقدمات درج ہیں۔
مقدمے کی پیش رفت
بعد ازاں عدالت نے متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کل صبح ساڑھے 8 بجے ذاتی حیثیت میں عدالت پیش ہوں۔ جج افضل مجوکہ نے واضح کیا کہ ہائیکورٹ کی ہدایت کے مطابق 24 جنوری تک جرح مکمل کرنا ضروری ہے۔








