کسمپرسی اور بے بسی کا سکّہ چل رہا تھا، فریاد سننے والا دُور دُور تک نظر نہیں آتا تھا، ان حالات میں ایک واقعہ پیش آیا سُننے کیلیے کلیجہ تھامنا پڑے گا
مصنف کا تعارف
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 36
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیز ان دبئی PID کے زیر اہتمام ٹیپ بال کرکٹ ٹورنامنٹ سیزن 8 عجمان میں 7اور 8 دسمبر کو ہو گا.
خاندان کی کاروباری ابتدا
والد صاحب نے اپنے مطب جس کا نامِ نامی تھا ”دو آبہ سنیاسی کمپنی“ جو نواں شہر انڈیا میں واقع تھا، اس سے ملحقہ پلاٹ میں صابن بنانے کا کاروبار بھی شروع کر دیا تھا۔ لہٰذا والد صاحب کسی اِدھر اُدھر واقع صابن کے کارخانہ کی تلاش میں سرگرداں رہے اور آخر کار ایک ویران لیکن ضروری سامان سے آراستہ چھوٹا سا صابن بنانے کا کارخانہ مل گیا۔ وہاں پر قبضہ کر کے بیٹھ گئے اور اچھے دنوں کے انتظار میں رہنے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں چینی خاتون کی عمارت کی چھت سے کود کر مبینہ خود کشی
گاؤں کی رائے اور فیصل آباد جانے کا فیصلہ
ہم نگرانی کی ڈیوٹی دیتے رہے تاکہ قبضہ برقرار رہے۔ لیکن یہ امید بر نہ آئی کیونکہ اپنے گاؤں کے دوسرے لوگ اور رشتہ دار اس بات پر مُصصر تھے کہ پہلے فیصل آباد جا کر زرعی زمین پر قبضہ جمایا جائے پھر کسی اور کام کا سوچا جائے۔ والد صاحب کو بھی انہوں نے مجبور کردیا اور ساتھ ملا لیا، اور لاہور چھوڑ کر فیصل آباد جانے کا پروگرام بننے لگا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی: اپوزیشن کے 26 ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کیلئے کارروائی کا آغاز
دلچسپ واقعہ
اس مکان میں رہائش کے دوران ایک بڑا دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ ہوا یوں کہ گھروں میں اُن دنوں کوئی لیٹرین اور واش رومز کا بندوبست نہ ہوتا تھا، لہٰذا یہ سب کام گھر سے باہر کیے جاتے تھے۔ ایک دن گھر سے نیچے اترا اور سامنے مکان کی پچھلی دیوار کے ساتھ مُنہ کر کے پیشاب کے لیے بیٹھ گیا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ ایک اچھے ڈیل ڈول کا شخص ہاتھ میں ربڑ کا ہنٹر تھامے میری طرف بھاگا۔ اس نے میری اِس حرکت پر جوش میں آ کر مجھے سزا دینے کا ارادہ کرلیا۔ میں نے جلدی اپنے کام کو سمیٹا اور وہاں سے غائب ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے بیانات اور ٹویٹس میں ان کا غصہ اور بوکھلاہٹ نظر آرہی ہے، سلمان غنی
سفر کی مشکلات
فیصل آباد جانے کے لیے ایک ٹرک کرایہ پر حاصل کیا گیا۔ عورتوں، لڑکوں، لڑکیوں، اور بچّوں کو اس میں سوار کر دیا گیا اور مرد حضرات ریل کے ذریعے سفر کرنے کے لیے نکل پڑے۔ اس ٹرک کا سفر بڑا لرزہ خیز تھا، کیونکہ وہاں جگہ نہ تھی۔ خاص طور پر کچھ عمر رسیدہ خواتین جن کا حق بنتا تھا کہ وہ آرام کریں، اُن کے لیے بیٹھنے کی گنجائش نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ
ایک حیران کن واقعہ
میرے سامنے میری ہم عمر لڑکیوں کا ایک گروپ آپس میں گفتگو میں مصروف تھا، اچانک سانپ سُونگھنے جیسی خاموشی چھا گئی۔ ایک لڑکی خاموشی سے دُوسروں کے کانوں میں کُھسر پُھسر کر رہی تھی، اور میرا نام ”مسمّی عبد الغفور“ کے ساتھ مسلسل ”touch“ ہونے کے موڈ میں ہونے کے بارے میں یہ پیغام تبادلہ ہوا۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








