پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، گل پلازہ آتشزدگی سمیت متعدد قراردادیں منظور
مشترکہ اجلاس میں بلز کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پارلیمنٹ کے مشرکہ اجلاس میں اپوزیشن کے شدید احتجاج اور صدر مملکت کی جانب سے اعتراضات کے باوجود بلز منظور کر لئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت آج، عمران خان پر فرد جرم عائد ہونے کا امکان
اجلاس کی شروعات اور اپوزیشن کا احتجاج
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 35 منٹ تاخیر سے شروع ہوا، جس میں قانون سازی کے متعدد اہم نکات زیر بحث آئے۔ اس موقع پر ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی کی گئی، اور سپیکر ڈائس کا گھیراؤ بھی کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: عید کی چھٹیوں میں سول ہسپتال کے غیر حاضر عملے کیخلاف کارروائی، 15 نرسیں نوکری سے فارغ
صدر مملکت کے اعتراضات
مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے دانش سکولز اتھارٹی بل اور گھریلو تشدد سے متعلق بل پر اعتراضات سامنے آئے۔ انہیں کہا گیا کہ وفاقی حکومت دانش سکولز اتھارٹی بنانے سے قبل صوبوں کے ساتھ مشاورت کرے۔
گھریلو تشدد سے متعلق بل کو مبہم قرار دیتے ہوئے تجویز کردہ سزاؤں پر بھی اعتراض کیا گیا اور کہا کہ اس بل کو موجودہ شکل میں منظوری دینے کے بجائے اس پر دوبارہ غور کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بقر عید : قصائی کو کتنی اجرت دینی ہے ؟میٹ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے ریٹ لسٹ جاری کر دی
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل
مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل پیش کیا گیا، جو وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے ایوان میں پیش کیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے بل میں ترمیم پیش کی، جس کی حکومت نے حمایت کی۔
جے یو آئی کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم مسترد کر دی گئیں، اور پارلیمنٹ نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارا دل مقبوضہ کشمیر کے اسیر عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے، پاکستان تحریک انصاف کا ’’یوم سیاہ ‘‘ پر پیغام
دانش سکولز اتھارٹی بل 2025 کا متنازعہ جائزہ
دانش سکولز اتھارٹی بل 2025 بھی مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے صدر مملکت کے ایڈوائس ایوان میں پڑھی کہ بلز پر صوبوں سے مشاورت کا کہا گیا تھا لیکن یہ نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کی، جبکہ پی ٹی آئی کے اراکین نے سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا۔ پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن اراکین بھی مسلسل نعرے لگاتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے 3 سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں پر 14 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا
گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025
اس دوران گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025 کی منظوری کا عمل شروع کیا گیا۔ جے یو آئی کے اراکین نے صدر کے اعتراضات کو پیش کیا، لیکن سپیکر نے نوٹس نہیں لیا۔
وزیر مملکت طلال چودھری نے کہا کہ اس بل میں مردوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو ایک مثبت اقدام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی بچت کی مختلف سکیموں پر منافع کی شرح میں ردوبدل، اطلاق 9 جنوری سے کر دیا گیا
سانحہ گل پلازہ پر قرارداد
ایوان میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے کراچی میں سانحہ گل پلازہ پر مشترکہ قرارداد پیش کی گئی۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ یہ ایک سنگین حادثہ ہے جس پر ہمیں کوئی اعترض نہیں۔
پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر سانحہ گل پلازہ پر قرارداد منظور کی، جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان متاثرین کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ آگ سے بچاؤ کے انتظامات کیے جائیں۔
عالمی امور اور اپوزیشن کا مؤقف
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ دنیا ایک حساس موڑ پر ہے اور ہمیں فلسطینیوں کی حمایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے نیتن یاہو کے بجائے پیس بورڈ کے قیام پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ہماری عزت و وقار کا اہم مسئلہ ہے اور ہمیں اس پر قرارداد منظور کرنی چاہیے۔








