ایران میں احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 5002 تک پہنچ گئی
ایران میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں پر کریک ڈاؤن
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران میں حکومت کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 5 ہزار 2 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک شخص قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکا، یہ واضح ہے جو وہ چاہتا ہے وہ نہیں ہو سکتا : ڈی جی آئی ایس پی آر
اعداد و شمار کی تصدیق
اے پی کے مطابق انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ابتدائی ہیں اور خدشہ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ملک میں انٹرنیٹ کی بندش مسلسل دو ہفتوں سے زائد عرصے سے جاری ہے، جو ایران کی تاریخ کی سب سے طویل اور جامع انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن قرار دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اپنے دریاؤں کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جائے گا: شیری رحمان
ہلاکتوں کی تفصیلات
ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 4 ہزار 716 مظاہرین شامل ہیں، جبکہ 203 افراد حکومت یا سکیورٹی اداروں سے وابستہ تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاں بحق افراد میں 43 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 40 ایسے شہری تھے جو براہِ راست احتجاج میں شریک نہیں تھے۔ تنظیم کے مطابق کریک ڈاؤن کے دوران 26 ہزار 800 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ اب کراچی سے نیویارک تک انسانیت کا منشور بن چکا ہے،بلاول بھٹو زرداری کی ظہران ممدانی کو دلی مبارکباد
معلومات تک رسائی میں مشکلات
تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ایران کے اندر موجود کارکنوں کے نیٹ ورک کے ذریعے تصدیق کے بعد مرتب کیے گئے ہیں، اور ماضی میں ایران میں ہونے والے احتجاجی واقعات کے دوران ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار درست ثابت ہوتے رہے ہیں۔
ایران میں معلومات تک رسائی شدید طور پر محدود ہے۔ حکام نے 8 جنوری سے انٹرنیٹ بند کر رکھا ہے، جس کے باعث ہلاکتوں اور گرفتاریوں کے بارے میں آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں: کرکٹرز نے مجھے اپنی نامناسب تصاویر بھیجیں
امریکی بحری موجودگی
اسی دوران مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جہاں امریکا نے طیارہ بردار بحری بیڑا خطے کے قریب روانہ کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں اس بحری موجودگی کو ’’آرماڈا‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات بے نتیجہ ختم
ایرانی حکومت کے اعداد و شمار
ایران کی حکومت نے بدھ کے روز پہلی مرتبہ سرکاری ہلاکتوں کے اعداد و شمار جاری کیے تھے، جن کے مطابق احتجاج کے دوران 3 ہزار 117 افراد مارے گئے۔ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ ان میں سے 2 ہزار 427 افراد شہری اور سکیورٹی اہلکار تھے، جبکہ باقی افراد کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا گیا۔ ماضی میں بھی ایرانی حکومت پر الزام عائد ہوتا رہا ہے کہ وہ احتجاجی واقعات میں ہلاکتوں کی اصل تعداد کم ظاہر کرتی ہے یا مکمل اعداد و شمار فراہم نہیں کرتی۔
آزادانہ تصدیق کی مشکلات
ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش اور بین الاقوامی کالز کی بلاکنگ کے باعث وہ ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔ سرگرم کارکنوں کے مطابق موجودہ ہلاکتوں کی تعداد گزشتہ کئی دہائیوں میں ایران میں ہونے والے کسی بھی احتجاج یا بدامنی سے زیادہ ہے اور یہ صورتحال 1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران پیدا ہونے والے انتشار کی یاد دلاتی ہے۔








