کرکٹرز کے ساتھ مبینہ فراڈ، کھلاڑیوں سے سرمایہ کاری لینے والی کمپنی کے مالک کا مؤقف آ گیا
دبئی میں کرکٹرز کے ساتھ مبینہ فراڈ
دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) یہ خبر سامنے آنے کے بعد کہ کرکٹرز کے ساتھ مبینہ فراڈ ہوا ہے، کھلاڑیوں سے سرمایہ کاری لینے والی کمپنی کے مالک کا مؤقف بھی سامنے آ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرائی نیشن سیریز فائنل، پاکستان نے سری لنکا کے خلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کرلیا
کمپنی کے مالک کا مؤقف
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق کمپنی کے مالک نے کہا ہے کہ قومی کرکٹرز 2023 سے ان کے ساتھ سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور اس حوالے سے تمام کھلاڑیوں کے ساتھ باقاعدہ تحریری معاہدے موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام کرکٹرز کے پاس کمپنی کے گارنٹی چیکس بھی موجود ہیں، اس لیے فراڈ کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلی کو مار کر کچا چبا جانے والی خاتون کو سزا سنادی گئی
امریکا جانے کا انکار
کمپنی مالک نے وضاحت کی کہ وہ کبھی امریکا نہیں گئے اور نہ ہی ان کے پاس امریکی ویزا ہے۔ وہ اس وقت دبئی میں موجود ہیں اور تمام کھلاڑیوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان کے مطابق کمپنی دبئی میں رجسٹرڈ ہے اور ٹریڈنگ کے شعبے میں کام کرتی ہے۔ پہلی بار ادائیگیوں میں تاخیر ضرور ہوئی، تاہم چند دن میں تمام واجبات کلیئر کر دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں مارکیٹوں، عمارتوں، سکولوں اور ہائر رائز بلڈنگز کے حوالے سے اہم فیصلے،وزیر اعلیٰ نے 2 ہفتے کی مہلت دیدی
شہریت اور سرمایہ کار
انہوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں اور ان کا خاندان پاکستان میں مقیم ہے۔ کرکٹرز کے علاوہ بھی ان کے ساتھ دیگر سرمایہ کار موجود ہیں اور ماضی میں باقاعدگی سے ادائیگیاں کی جاتی رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات چاہتی ہے تو آئیں، ان کو بھی ساتھ بٹھا لیں، طارق فضل چوہدری نے پیشکش کردی۔
فراڈ کی خبریں
واضح رہے کہ اس سے قبل خبر سامنے آئی تھی کہ پاکستانی کرکٹرز مبینہ طور پر منافع کے لالچ میں جعلسازی کا شکار ہوئے اور کروڑوں روپے ہڑپ کر لیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بولی وڈ اداکار گووندا کی اہلیہ سنیتا نے طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا، منیجر کی تصدیق
شکایات کا عدم وجود
ذرائع کے مطابق سابق اور موجودہ پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ مبینہ فراڈ ہوا ہے، تاہم تاحال کسی بھی کھلاڑی نے کسی پلیٹ فارم پر باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی، نہ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ سے مسئلہ حل کرانے کے لیے رابطہ کیا گیا۔
سرمایہ کاری کی وجوہات
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرکٹرز نے ایک سابق کپتان کو دیکھتے ہوئے اس کاروباری شخص کے ساتھ سرمایہ کاری کی، جبکہ موجودہ اور سابق کپتانوں سمیت کئی کھلاڑیوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ بعض کرکٹرز نے براہ راست سرمایہ کاری کی اور غیر معمولی منافع کے لالچ میں کروڑوں روپے مبینہ طور پر اس شخص کے حوالے کیے گئے۔








