نجی تعلیمی ادارے والدین کو کسی مخصوص دکان یا وینڈر سے کتب، یونیفارم یا دیگر اشیاء خریدنے پر مجبور نہیں کر سکتے، رانا سکندر
تعلیم کے وزیر کا اعلان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے واضح کیا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے والدین کو کسی مخصوص دکان یا وینڈر سے کتب، یونیفارم یا دیگر اشیاء خریدنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ٹو کیس : بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر
قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی
انہوں نے کہا کہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ والدین کو غیرقانونی عمل کی شکایت CRM پورٹل کے ذریعے درج کرانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ قانون کی عملداری یقینی بنائی جا سکے۔ اس سلسلے میں ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیوں نے تاریخی مالیت کی ترسیلات وطن بھیج کر ریکارڈ قائم کر دیا
نوٹیفکیشن کی تفصیلات
نوٹیفکیشن کے مطابق، پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (پروموشن اینڈ ریگولیشن) آرڈیننس 1984 کے سیکشن 7A(10) کے تحت کوئی بھی نجی تعلیمی ادارہ والدین یا سرپرستوں کو مخصوص دکانوں یا وینڈرز سے درسی کتب، یونیفارم یا دیگر اشیاء خریدنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک لاکھ 21 ہزار روپے کی ڈکیتی کا ماسٹر مائنڈ خود ڈلیوری بوائے ہی نکلا
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی وضاحت
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے وضاحت کی ہے کہ اگر کوئی نجی سکول والدین پر دباؤ ڈالے یا انہیں مخصوص آؤٹ لیٹس سے کتابیں یا دیگر تعلیمی مواد خریدنے کا پابند بنائے، تو یہ عمل قانون کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ ایسے اداروں کے خلاف آرڈیننس اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانے اور دیگر تادیبی اقدامات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ لاجز میں 104 اضافی فیملی سوئٹس کی تعمیر آخری مراحل میں داخل
والدین کی مدد کے لئے اپیل
محکمہ تعلیم نے والدین اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس نوعیت کی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی (DRA) کو دیں، جو چیف ایگزیکٹو آفیسر (ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی) کے دفتر میں قائم ہے۔ مزید برآں، حکومتِ پنجاب کے سٹیزن ریلیشن شپ مینجمنٹ (CRM) پورٹل پر آن لائن شکایت بھی درج کرائی جا سکتی ہے۔
حقوق کی حفاظت کی یقین دہانی
سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ والدین کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور قانون کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔








