بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی، گالی دینا جرم قرار
نیا قانون: بیوی اور بچوں کے سماجی تحفظ کے لیے اہم اقدام
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) بیوی کو گھورنا، طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی دینا، گالی دینا جرم قرار دیا گیا ہے۔ بیوی اور بچوں کے سماجی تحفظ سے متعلق ایک اہم قانون پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کرلیا گیا۔ یہ قانون وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر نافذ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام حملہ بہار کا الیکشن جیتنے کے لیے کروایا گیا، مودی حکومت قومی سلامتی کے مسائل کو انتخابی فائدے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ یشونت سنہا کھل کر بول پڑے۔
ڈومیسٹک وائلنس بل 2025
ڈومیسٹک وائلنس بل 2025 کا اطلاق بیوی، بچوں، بزرگ افراد، لے پالک، ٹرانس جینڈر اور ایک ساتھ رہنے والوں پر ہوگا۔ بل میں بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو گالی دینا بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں لاکھوں روپے اضافہ، تفصیلات سامنے آگئیں
قانون کی تفصیلات
بیوی، بچے یا گھر میں موجود دیگر افراد کو جذباتی و نفسیاتی طور پر پریشان کرنا بھی جرم ہوگا۔ مرتکب افراد کو 3 سال تک کی سزا اور ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ مزید برآں، گھر میں معذور افراد یا بزرگ افراد کا تعاقب کرنا اور بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا بھی قابل سزا جرم ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ملائیکہ اروڑا کے سری لنکن کرکٹرکمار سنگھاکارا کیساتھ افیئر کی خبروں پر اداکارہ کے قریبی ذرائع کا موقف آگیا
پرائیویسی اور عزت نفس کا تحفظ
خاندان کے افراد کی پرائیویسی یا عزت نفس مجروح کرنا بھی جرم تصور کیا جائے گا۔ بیوی یا گھر میں رہنے والے دیگر افراد کو جسمانی تکلیف پہنچانے کی دھمکی دینا بھی قابل سزا ہوگا۔ کسی بھی فریق پر الزام لگانے پر بھی سزا ہوگی، جبکہ بیوی، بچوں یا گھر میں رہنے والی دیگر فریق کا خیال نہ رکھنا بھی قابل سزا جرم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایوان صدر میں خفیہ میٹنگ اور صدر مملکت کو عہدے سے ہٹائے جانے کی افواہوں کی تردید، غریدہ فاروقی تفصیلات سامنے لے آئیں
جنسی اور معاشی استحصال
ڈومیسٹک وائلنس بل میں جنسی استحصال کے ساتھ معاشی استحصال کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے پر مزید 3 سال سزا ہوگی۔ عدالت میں درخواست آنے کے 7 روز کے اندر سماعت ہوگی اور فیصلہ 90 روز کے اندر سنایا جائے گا۔
تشدد کی روکتھام کے اقدامات
متاثرہ شخص کو مشترکہ رہائش گاہ میں رہنے کا حق حاصل ہوگا یا جوابدہ شخص رہائش کا بندوبست کرے گا۔ تشدد کرنے والے شخص کو متاثرہ شخص سے دور رہنے کے احکامات دیے جائیں گے اور انہیں جی پی ایس ٹریکر پہننے کی ہدایت بھی دی جائے گی۔ تشدد سے مراد جسمانی، نفسیاتی اور جنسی بدسلوکی ہے جس سے متاثرہ شخص کو نفسیاتی نقصان ہو۔








