سابق وزیر اعظم نتائج سے مکمل آگاہ تھے اس کے باوجود ریاستی مفاد کے خلاف فیصلے کیے: بلال اظہر کیانی
بلال اظہر کیانی کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ سابق حکومت نے اپنی سیاسی انا اور اقتدار کے خوف میں مبتلا ہو کر جان بوجھ کر پاکستان کو ڈیفالٹ کی طرف دھکیلا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان ان نتائج سے مکمل طور پر آگاہ تھے، اس کے باوجود انہوں نے ریاستی مفاد کے خلاف فیصلے کیے۔
یہ بھی پڑھیں: صوبائی حکومتیں خزانے پر سانپ بن کر نہ بیٹھیں، اختیارات نچلی سطح پر منتقل کریں: حافظ نعیم الرحمان
آئی ایم ایف پروگرام کی سبوتاژ
ایوان بالا کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ جب انہیں یہ اندازہ ہوا کہ ان کی کرسی جا رہی ہے تو انہوں نے دانستہ طور پر آئی ایم ایف پروگرام کو سبوتاژ کیا، حالانکہ انہیں مکمل علم تھا کہ اس کے نتیجے میں ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ ڈیفالٹ کا مطلب وہی حالات ہوتے ہیں جو ہم نے سری لنکا میں دیکھے، جہاں عوام کو ایندھن اور کھانا پکانے کی گیس کے لیے طویل قطاروں میں کھڑا ہونا پڑا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان ان نتائج سے مکمل طور پر آگاہ تھے، اس کے باوجود انہوں نے ریاستی مفاد کے خلاف فیصلے کیے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا بائیکاٹ اپنے ممبران پر عدم اعتماد ہے: رانا ثناء اللہ
موجودہ حکومت کی کامیابیاں
’’ اے پی پی ‘‘ کے مطابق بلال اظہر کیانی نے کہا کہ 2022ء میں جب موجودہ اتحادی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اسے ایک سبوتاژ شدہ آئی ایم ایف پروگرام ورثے میں ملا۔ حکومت نے قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے نہ صرف اس پروگرام کو بحال کیا بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ اعتماد بھی بحال کیا جس کے نتیجے میں پاکستان ڈیفالٹ سے بچا اور معاشی استحکام کی جانب بڑھا۔ سابق حکومت کے بعض وزرائے خزانہ آئی ایم ایف کو خطوط لکھتے رہے کہ پروگرام بحال نہ کیا جائے جس سے ان کی نیت اور طرز عمل کھل کر سامنے آ گیا۔ آج وہی عناصر معاشی لیکچر دے رہے ہیں، حالانکہ ان کی تمام معاشی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید کے ’’کورٹ مارشل‘‘ میں سب کیلئے سبق ، اہم الزام کیا ،آئی ایس آئی کا ’سیاسی سیل‘ کس نے قائم کیا ؟ مظہر عباس نے اہم تفصیلات شیئر کر دیں.
معاشی استحکام کے لئے اقدامات
وزیر مملکت نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 2024ء میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تمام اہداف پورے کیے، منی بجٹ لانے کے دعوے غلط ثابت ہوئے، مہنگائی میں واضح کمی آئی اور مالی نظم و ضبط بحال ہوا۔ اگرچہ مشکلات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت نے معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچا کر درست سمت میں ڈال دیا ہے۔
اپوزیشن کا کردار
انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ اگر وہ معاشی استحکام میں تعمیری کردار ادا نہیں کر سکتے تو کم از کم رکاوٹ نہ بنیں۔ حکومت مشاورت، شفافیت اور پارلیمانی بالادستی کے اصولوں کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔








