شدت پسندی کی جو لہر طالبان اور ان کے ہم خیال نے اْٹھائی اس میں 50 ہزار کے لگ بھگ جانیں گئیں جن میں 95 فیصد سے زیادہ مسلمان تھے.
مصنف کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 286
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں کمسن بچی سے زیادتی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار
مسیحی کمیونٹی کا کردار
راقم نے بتایا کہ مسیحی کمیونٹی نے پاکستان کو چیف جسٹس آف پاکستان، پاکستان کے قومی ترانے کی دْھن ترتیب دینے والا موسیقار، پاکستان کی مسلح افواج کا پہلا کمانڈر ان چیف، آئین ساز اسمبلی کا پہلا ڈپٹی سپیکر، پہلا سیکرٹری، درجنوں اعلیٰ پایہ کے بیورو کریٹ، سفارتکار، ایجوکیشنسٹ، پولیس افسران، فوجی افسران، گلوکار، ہدایت کار، کھلاڑی، شاعر، ادیب، فوٹوگرافر، صحافی اور سیاسی لیڈر دئیے۔ ہمیں ان سب پر فخر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں پالتو جانوروں کو مار کر تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والی خاتون گرفتار
مسیحی برادری کے تحفظات
بعد ازاں بطورِ خاص مسیحی برادری کے ان تحفظات پر بات کی گئی جن کا وقتاً فوقتاً ان کی طرف سے اظہار ہوتا رہتا ہے۔ ان کی پہلی اور سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ جب سے توہین انبیاء، توہین قرآن اور توہین شعائر اسلامی کے متعلق قوانین نافذ ہوئے ہیں، اقلیتوں خصوصاً مسیحی کمیونٹی سے زیادتیاں اور اْن پر ظلم و ستم ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے گرم علاقوں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان
اعداد و شمار کی حقیقت
الطاف قمر نے اْنہیں اعداد و شمار کے حوالوں سے بتایا کہ اْن کی یہ شکایت محض ایک مفروضہ اور لاعلمی کا شاخسانہ ہے، جبکہ اصل صورتحال ایسی نہیں ہے۔ حاضرین کو بتایا گیا کہ مندرجہ بالا تمام قوانین کے تحت 1987ء سے 2014ء تک (28 سال میں) پورے پاکستان میں تقریباً 600 مقدمات درج کئے گئے جن میں 1300 کے لگ بھگ اشخاص کو مدعیان کی طرف سے ملزم ٹھہرایا گیا۔ ان 1300 اشخاص میں سے 51 فیصد مسلمان اور 49 فیصد غیر مسلم تھے۔ اِن غیر مسلموں میں 26 فیصد قادیانی، 21 فیصد مسیحی جبکہ 2 فیصد دیگر مذاہب کے لوگ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن کے معروف رہنما صدیق الفاروق انتقال کرگئے
قراردادوں کا جائزہ
مزید بتایا گیا کہ 1990ء سے 2015ء تک (25 سال میں) پاکستان بھر میں توہین رسالت، قرآن جلانے یا کسی شعائر اسلام کی توہین کے الزام میں کل 62 افراد کو قتل کیا گیا جن میں 25 مسلمان، 15 مسیحی، 5 قادیانی اور 1 ہندو تھا۔ اسی طرح 2001ء سے 2010ء تک (10 سال میں) دہشت گردی کی موجودہ لہر کے دوران دہشت گردوں کے ہاتھوں 84 مذہبی عبادت گاہوں کو بمبوں یا خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان میں 41 مساجد، 20 امام بارگاہیں، 3 قادیانی عبادت گاہیں، 4 شیعہ جلوس، 9 مزارات و درگاہیں، 6 چرچ اور 1 دینی مدرسہ تھا۔ ان حملوں میں کل 1341 افراد ہلاک اور 3224 زخمی ہوئے جن میں ہر مذہب اور فرقہ کے ہلاک شدگان اور زخمی ہونے والوں کا تناسب کم و بیش وہی تھا جو اْن کی عبادت گاہوں کا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب خضرافضال کی زیر صدارت کھیلتا پنجاب گیمز کے حوالے سے اہم اجلاس
تشویش ناک حقائق
2001ء سے 2011ء تک (11 سال میں) انفرادی فرقہ وارانہ تشدد اور لڑائی جھگڑے کے 1843 مقدمات درج ہوئے۔ انہی پْرتشدد واقعات میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور وفاقی وزیر شہباز بھٹی جاں بحق ہوئے۔ ان واقعات میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں 80 فیصد سے زائد مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان اور 20 فیصد سے کہیں کم غیر مسلم تھے، اور وہ بھی مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے۔
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا: بیٹے کو اغواء کرنے کے الزام میں باپ کے خلاف مقدمہ درج
مذہبی شدت پسندی کا تجزیہ
اس کے برعکس اسی عرصہ کے دوران پاکستان میں شدت پسندی کی جو لہر طالبان اور ان کے ہم خیال نے اٹھائی اس میں 50 ہزار کے لگ بھگ جانیں گئیں جن میں 95 فیصد سے زیادہ مسلمان تھے۔ ان حالات میں یہ پروپیگنڈہ یا وہم کہ مندرجہ بالا قوانین کے نفاذ کے بعد پاکستان میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہوا ہے اور اس میں مسیحی برادری کو خصوصی نشانہ بنایا گیا ہے، کسی طرح درست نہیں ہے۔ اعداد و شمار اس کے بالکل برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔
حقیقت کی عکاسی
حقیقت یہ ہے کہ جب سے پاکستان میں شدت پسندی اور دہشت گردی کی موجودہ لہر آئی ہے اس کا اصل نشانہ مسلمان ہیں کیونکہ یہ دہشت گرد اپنے سوا سب مسلمانوں کو مرتد اور واجب القتل سمجھتے ہیں اور غیر مسلموں کے بجائے "مرتد" ان کا پہلا اور اصل ہدف ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








