فیض حمید کے بھائی کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر عدالتی فیصلہ محفوظ
عدالت نے نجف حمید کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) - فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: اور اب پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بھرتی پر ملازمین کا جنسی جرائم کا ریکارڈ دیکھا جائے گا
سماعت کا پس منظر
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت منسوخ کرنے سے متعلق ایف آئی اے کی درخواست پر سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی۔ سماعت کے دوران نجف حمید اپنے وکیل میاں علی اشفاق کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: فردین خان نے 14 سال بھارتی فلم انڈسٹری سے دور رہنے کی وجہ بتا دی
ایف آئی اے کا مؤقف
دوران سماعت، پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ ریکارڈ ریاست کا ہے اور اس میں ردوبدل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شکایت کنندہ کے ساتھ معاملے طے بھی پا جائیں تو ضمانت نہیں دی جا سکتی، اور مزید تفتیش کے لئے نجف حمید کی کسٹڈی درکار ہے۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ نجف حمید کی ضمانت خارج کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرویو کیلئے جلدی پہنچنے پر ملازمت کا امیدوار مسترد، آجر کا موقف بھی آگیا
دفاعی وکیل کی دلیل
D دفاع کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیس وکالت کی تاریخ میں انوکھا ہے کیونکہ تفتیشی آفیسر خود شکایت کنندہ ہے۔ انہوں نے عدالت میں اس بات کا ذکر کیا کہ اصل شکایت کنندہ نے بیان دیا کہ ان کے معاملات طے پا گئے ہیں اور اپنے بیان حلفی بھی جمع کروا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زیک انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام پاکستان ایسوسی ایشن دبئی میں کم عمر طلبہ و طالبات کے لیے ادبی سرگرمیوں کا آغاز
عدالت کے حکم کی وضاحت
ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نے کہا کہ تفتیشی آفیسر کو اس کیس میں پارٹی کیسے تصور کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے واضح کیا کہ شکایت کنندہ نے عدالت میں پیش ہو کر بیان دیا تھا کہ معاملہ طے پا گیا ہے اور وہ کیس کو مزید نہیں چلانا چاہتے۔
یہ بھی پڑھیں: قتل کیس، راولپنڈی کی عدالت نے مجرم عمران خان کو سزا ئے موت سنا دی
سماعت کی مزید تفصیلات
دفاعی وکیل نے مزید کہا کہ 16 سال میں اگر تفتیش نہیں ہو سکی تو اب کیسی تفتیش کی جائے گی۔ اس کیس میں کسی سرکاری زمین کا معاملہ بھی شامل نہیں ہے۔ ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نے کہا کہ ایف آئی اے نے درخواست میں لکھا ہے کہ انہیں ضمانت کا علم نہیں تھا، حالانکہ عدالتی حکم نامے کے مطابق ضمانت کے وقت اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل عدالت میں موجود تھے۔
عدالت کا فیصلہ محفوظ
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت کے حکم نامے میں درج ہے کہ اے ڈی لیگل نے ضمانت کی مخالفت کی تھی، لہٰذا ایف آئی اے کی جانب سے ضمانت خارج کرنے کی درخواست کو خارج کیا جائے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر نجف حمید کی ضمانت خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔








