متنازع ٹوئٹ کیس، ایمان مزاری نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا
اسلام آباد: ایمان مزاری کا عدالتی بائیکاٹ
اسلام آباد (ویب ڈیسک) متنازع ٹوئٹ کیس میں ایمان مزاری نے ویڈیو لنک پر پیش ہوکر عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا اور جج پر الزامات لگا دیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا انڈیا کے خلاف میچ کا بائیکاٹ، بھارتی کرکٹ بورڈ کا رد عمل بھی آ گیا
سماعت کی تفصیلات
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے ایس ایس پی آپریشن اور ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی کو ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ملزمان کو صبح 10 بجے عدالت میں پیش کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے ورلڈ کپ میں نہ کھیلنے کا فیصلہ، ماننا پڑے گا کہ پاکستان نے اس بار بڑا زبردست کام کیا ہے، سابق انگلش کرکٹر کا بیان
عدالت کا وقفہ
جج محمد افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ آج ہائیکورٹ کے آرڈر کی روشنی میں جرح کا آخری دن ہے، جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت میں 10 بجے تک وقفہ کر دیا۔ کیس کی مزید سماعت کے دوران پولیس حکام نے عدالت میں اپنا جواب جمع کرا دیا، جس میں پولیس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیکیورٹی ایشوز اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر 5 سے 6 گھنٹے کا وقت درکار ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ ملزمان کو بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک دن کے وقفے کے بعد سونا پھر مہنگا ہوگیا
ویڈیو لنک پر پیشی
عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ساڑھے 10 بجے بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم دے دیا، جب کہ کیس کی سماعت میں 10:30 بجے تک وقفہ کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوہ شمائلہ عمران فاروق لندن میں انتقال کر گئیں
مکالمہ اور بائیکاٹ
بعد ازاں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔ جج افضل مجوکہ نے ملزمان سے استفسار کیا کہ کیا آپ جرح شروع کریں گے؟، جس پر ایمان مزاری نے پوچھا کہ کیا میڈیا عدالت میں ہے؟۔ ایمان مزاری نے بتایا کہ ہم پر تشدد کیاجارہاہے۔ ہمیں پانی کھانا نہیں دیاجارہا۔ انہوں نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تم اپنی نوکری کررہے ہو۔ تمہاری وجہ سے سارا کچھ ہورہاہے۔ ہم عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اڈیالہ جیل ہے، زمان پارک یا پاکپتن کا پیر خانہ نہیں، جہاں ہر ہفتے چند کرائے کے لوگوں کے ساتھ تماشا لگایا جاتا ہے، عظمیٰ بخاری
جج کا جواب
جج افضل مجوکہ نے سوال کیا کہ آپ کا مطلب کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے؟ فیصلے کا انتظار کریں۔ اس موقع پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سماعت ختم ہونے سے قبل کرسی سے اٹھ کر چلے گئے جب کہ جج نے عدالتی عملے کو حکم دیا کہ سب ریکارڈ کرکے مجھے دیں۔
یہ بھی پڑھیں: وہ سامنے کرسی پر بیٹھا جیسے انتظار میں تھا، چارج میرے حوالے کیا، کئی سال میرے ماتحت رہا، قانون سے واقف، سرکاری نوکری میں میرا پہلا استاد
وکیل کی استدعا
دوران سماعت وکیل اشرف گجر نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کو عدالت میں طلب کریں، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ وہ آن لائن پیش ہوئے ہیں۔ آپ کی ریکویسٹ کو دیکھ لیتا ہوں۔ ساری سماعت کا ریکارڈ موجود ہے، دیکھ لیتے ہیں۔ آپ کی درخواست پر تحریری آرڈر کرتا ہوں۔
راولپنڈی میں وکلا کا احتجاج
دوسری جانب راولپنڈی میں ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری کے معاملے پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی نے بھی آج ہڑتال کر دی۔
راولپنڈی میں وکلا نے عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے دن ساڑھے 11 بجے احتجاجی اجلاس طلب کر لیا۔ اس موقع پر سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار نے مطالبہ کیا کہ ایمان مزاری کو فوری طور پر رہا کیا جائے جب کہ صدر بار کا کہنا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔








