متنازع ٹوئٹ کیس، ایمان مزاری نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا
اسلام آباد: ایمان مزاری کا عدالتی بائیکاٹ
اسلام آباد (ویب ڈیسک) متنازع ٹوئٹ کیس میں ایمان مزاری نے ویڈیو لنک پر پیش ہوکر عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا اور جج پر الزامات لگا دیے۔
یہ بھی پڑھیں: شدید سردی، بارشوں اور برفباری کا الرٹ جاری کر دیا گیا
سماعت کی تفصیلات
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے ایس ایس پی آپریشن اور ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی کو ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ملزمان کو صبح 10 بجے عدالت میں پیش کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلابی صورتحال، پانی لاہور میں داخل، اموات کی تعداد 20 ہو گئی
عدالت کا وقفہ
جج محمد افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ آج ہائیکورٹ کے آرڈر کی روشنی میں جرح کا آخری دن ہے، جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت میں 10 بجے تک وقفہ کر دیا۔ کیس کی مزید سماعت کے دوران پولیس حکام نے عدالت میں اپنا جواب جمع کرا دیا، جس میں پولیس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیکیورٹی ایشوز اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر 5 سے 6 گھنٹے کا وقت درکار ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ ملزمان کو بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 35 نئی ادویات متعارف کرانے کا فیصلہ
ویڈیو لنک پر پیشی
عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ساڑھے 10 بجے بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم دے دیا، جب کہ کیس کی سماعت میں 10:30 بجے تک وقفہ کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا برونائی کا دورہ، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
مکالمہ اور بائیکاٹ
بعد ازاں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔ جج افضل مجوکہ نے ملزمان سے استفسار کیا کہ کیا آپ جرح شروع کریں گے؟، جس پر ایمان مزاری نے پوچھا کہ کیا میڈیا عدالت میں ہے؟۔ ایمان مزاری نے بتایا کہ ہم پر تشدد کیاجارہاہے۔ ہمیں پانی کھانا نہیں دیاجارہا۔ انہوں نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ تم اپنی نوکری کررہے ہو۔ تمہاری وجہ سے سارا کچھ ہورہاہے۔ ہم عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل سیونگ نے بچت سکیموں کی شرح منافع میں ردوبدل کردیا
جج کا جواب
جج افضل مجوکہ نے سوال کیا کہ آپ کا مطلب کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے؟ فیصلے کا انتظار کریں۔ اس موقع پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سماعت ختم ہونے سے قبل کرسی سے اٹھ کر چلے گئے جب کہ جج نے عدالتی عملے کو حکم دیا کہ سب ریکارڈ کرکے مجھے دیں۔
یہ بھی پڑھیں: روس کا جوہری اڈا جہاں فوجیوں کے والدین کو داخلے کے لیے تین ماہ پہلے درخواست دینا لازمی ہے
وکیل کی استدعا
دوران سماعت وکیل اشرف گجر نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کو عدالت میں طلب کریں، جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ وہ آن لائن پیش ہوئے ہیں۔ آپ کی ریکویسٹ کو دیکھ لیتا ہوں۔ ساری سماعت کا ریکارڈ موجود ہے، دیکھ لیتے ہیں۔ آپ کی درخواست پر تحریری آرڈر کرتا ہوں۔
راولپنڈی میں وکلا کا احتجاج
دوسری جانب راولپنڈی میں ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری کے معاملے پر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی نے بھی آج ہڑتال کر دی۔
راولپنڈی میں وکلا نے عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے دن ساڑھے 11 بجے احتجاجی اجلاس طلب کر لیا۔ اس موقع پر سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار نے مطالبہ کیا کہ ایمان مزاری کو فوری طور پر رہا کیا جائے جب کہ صدر بار کا کہنا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔








