سپین میں بزرگ خواتین اور ان کے معذور بھائی کا قتل کیس، پاکستانی شہری کو 36 سال قید سنا دی گئی۔
پاکستانی شہری کا بہیمانہ قتل
میڈرڈ (ویب ڈیسک) سپین میں اپنے مالک مکان کو خاندان سمیت بہیمانہ انداز میں قتل کرنے والے پاکستانی 44 سالہ دلاور حسین کو قید کی سزا سنادی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں سینٹرل جیل سے رہائی پانے والے شخص کو کچھ دیر بعد ہی قتل
واقعہ کی تفصیلات
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ دل دہلادینے والا واقعہ دسمبر 2023 میں اسپین کے شہر میڈرڈ کے قریبی قصبے موراتا دے تاجونا میں پیش آیا۔جہاں دلاور حسین ایک ایسے گھر میں کرایہ پر رہتا تھا جس کے مالکان میں دو بزرگ بہنیں اور ان کا ایک معذور بھائی تھا۔ تینوں کی عمریں 70 سے زائد تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ جیتنے کے بعد آسٹریلوی کپتان کی گفتگو
جعلی محبت کا دھوکہ
مقامی میڈیا کے مطابق اس سانحے کی جڑ ایک جعلی آن لائن محبت کا دھوکا تھا۔ جس میں دونوں بہنیں 2 امریکی فوجیوں کے ساتھ آن لائن جذباتی طور پر جڑ گئی ہیں۔آن لائن رابطہ رکھنے والے دونوں کو یقین دلایا گیا کہ ایک فوجی مر چکا ہے جبکہ دوسرا بھاری رقم کی وراثت وصول کرنے کے لیے مالی مدد چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرا پارٹی انتخابات، بلاول بھٹو 4 سال کے لیے پیپلز پارٹی کے چیئرمین منتخب
ادھار کی رقم اور تشدد
اس دھوکے میں آ کر بہنوں نے اپنے کرایہ دار دلاور حسین سے رقم ادھار لی اور آن لائن فراڈیوں کو بھیجتی رہیں اور ان پر بھاری قرض چڑھ گیا۔
دلاور حسین نے بتایا کہ اس نے بزرگ خواتین کو تقریباً 60 ہزار یورو قرض دیا تھا جو کہ تاحال واپس نہیں مل سکا تھا، جس پر فروری 2023 میں دلاور حسین گھر میں دو میں سے ایک خاتون کو ہتھوڑا مار کر زخمی کردیتا، جس پر 2 سال قید کی سزا ہوتی ہے لیکن یہ پہلا جرم ہوتا ہے اس لیے ہسپانوی قانون کے تحت سزا معطل ہوجاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 28 مئی 1998ء سے شروع ہونے والا سفر دنیا کو 10 مئی 2025ء کو سمجھ آیا: وزیر تعلیم پنجاب
دوبارہ جرم اور اعتراف
رہائی کے بعد دلاور حسین پھر قرض لوٹانے کا مطالبہ کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ دسمبر 2023 میں لوہے کی راڈ مار کر بزرگ بہنوں اور ان کے معذور بھائی کو قتل کرتا ہے۔ بعد میں لاشیں چھپانے کی کوشش میں انھیں آگ لگاکر جلانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ناکام ہوجاتا ہے اور پھر تھانے جاکر اعتراف جرم کرکے خود کو پولیس کے حوالے کردیتا ہے۔
چند دیگر الزامات اور سزا
دوران حراست ہی 2024 میں تفتیش کے دوران پولیس نے دلاور حسین پر اپنے سیل میٹ بلغاریائی شخص کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا، جس پر مقدمہ چلنا باقی ہے۔ اکتوبر 2025 میں عدالت نے دلاور حسین کو تہرے قتل کے الزام میں بارہ بارہ سال قید یعنی مجموعی طور پر 36 سال قید کی سزا سنائی۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم کی ذہنی کیفیت میں بگاڑ کے باعث سزا میں نرمی کا سبب قرار دیا۔ ملزم نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ عدالت میں بیان دیتے ہوئے ملزم دلاور حسین نے معافی مانگی اور کہا کہ وہ مختلف آوازیں سن رہا تھا اور اس وقت حواس میں نہیں تھا۔








