محسن نقوی کی امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے اہم ملاقات، جعلی ویزا نیٹ ورک پر مشترکہ کارروائی پر اتفاق
وفاقی وزیر داخلہ کی امریکی سفیر سے ملاقات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی اہم ملاقات ہوئی، جس میں جعلی ویزا نیٹ ورکس پر مشترکہ کارروائی پر اتفاق کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خلیجی خطے میں ’’جاسوس نیٹ ورک‘‘ کا انکشاف، ایران، پاکستان اور دیگر ممالک کے خلاف بھی حساس معلومات اکٹھی کی جا سکتی ہیں: تہلکہ خیز رپورٹ
پاک-امریکہ تعلقات پر تبادلہ خیال
’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق، وزیر داخلہ محسن نقوی اور امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی ملاقات میں پاک، امریکہ تعلقات اور باہمی مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فضیلہ قاضی نے صدارتی ایوارڈ سے متعلق اہم وضاحت پیش کی
غیر قانونی امیگریشن اور تعاون
ملاقات میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور پری امیگریشن کلیرنس نظام کی افادیت پر بات کی گئی۔ دونوں جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں، خصوصاً پولیس ٹریننگ کے شعبے میں ہر سطح پر اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر جعلی و فراڈ ویزا نیٹ ورکس کے خلاف جامع ایس او پیز کے تحت مشترکہ کارروائی کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران چاہے تو چند ہفتوں میں جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تلسی گبارڈ کا نیا دعویٰ
وزیر داخلہ کی گفتگو
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکی سفیر سے گفتگو میں کہا کہ ایجنٹ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے اور انہوں نے امریکی تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جعلی ویزا نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی خود نگرانی کر رہا ہوں، اور پاسپورٹ کو جدید ٹیکنالوجی سے فول پروف بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کا صحت عامہ کے فروغ میں اہم قدم، پی این ایس درمان جہ، اورماڑہ میں جدید بلاک کا افتتاح
غیر قانونی امیگریشن کا کریک ڈاؤن
محسن نقوی نے غیر قانونی امیگریشن کو ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ غیر قانونی طور پر امریکہ جانے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے۔ حکومت کے موثر اقدامات کے نتیجے میں غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی آئی ہے، اور جعلی دستاویزات کے نیٹ ورکس میں ملوث عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں۔
امریکی سفیر کا موقف
امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں، اور دونوں ممالک میں باہمی تعاون کے فروغ سے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔








