افغان طالبان کے نئے آئین کا مسودہ سامنے آ گیا، بھارتی ہندوتوا نظریہ کی چھاپ، قیادت کی مخالفت کرنے پر بھی کوڑے مارے جائیں گے، انصاف پسند حلقے بلبلا اٹھے
افغان طالبان کا نام نہاد دستور
لاہور ( طیبہ بخاری سے ) افغان طالبان کا نام نہاد دستور، طبقاتی تقسیم پر مبنی انسانی حقوق اور غلامی کا مسودہ سامنے آ گیا۔ نام نہاد آئین پر بھارتی ہندوتوا نظریہ کی چھاپ واضح نظر آ رہی ہے، قیادت کی مخالفت کرنے پر بھی کوڑے مارے جائیں گے، انصاف پسند حلقے بلبلا اٹھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں معاشی استحکام آ چکا، دنیا ہماری ترقی کی رفتار پر حیران ہے: وزیر خزانہ
افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتحال
ذرائع نے بتایا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ خواتین کی تعلیم پر پابندیاں، مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی، اور آزادی اظہار پر کریک ڈاؤن نے افغانستان کو عالمی سطح پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ افغان طالبان کے زیرِ اقتدار نظام کی بنیاد مذہب کی من پسند اور مسخ شدہ تشریح پر رکھی گئی ہے۔
افغان طالبان کے منظر عام پر آنے والے نام نہاد آئینی دستور کے مندرجات نے افغانستان سمیت عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ منظر عام پر آنے والی دستاویز کے مطابق ہیبت اللہ اخوندزادہ کے نام نہاد آئین نے افغان معاشرے کو مختلف طبقات میں بانٹ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: چلتے رکشے میں بیٹھی لڑکی نامعلوم سمت سے گولی لگنے سے جاں بحق
دستاویز کے مضامین
افغان جریدہ کابل ناؤ کے مطابق دستاویز میں افغان عوام کو علماء، اشرافیہ، متوسط، نچلے طبقے کے زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ ضابطہ، 3 حصوں، 10 ابواب، اور 119 شقوں پر مشتمل ہے. اس دستاویزی ضابطے میں باغیوں کو ناقابلِ اصلاح قرار دے کر قتل کے جواز کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ منصفانہ ٹرائل سے متعلق دیگر بنیادی تحفظات بھی اس ضابطے میں شامل نہیں، دستاویز میں جسمانی سزاؤں میں نمایاں اضافہ اور طالبان پر تنقید کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا وزن میں ڈرامائی کمی بیماری کا نتیجہ ہے؟ کرن جوہر نے خاموشی توڑ دی
سزاؤں کی تفصیلات
افغان نشریاتی ادارہ آمو ٹی وی کے مطابق طالبان قیادت کی توہین پر 20 کوڑے اور 6 ماہ قید جبکہ فقہِ حنفی ترک کرنے پر 2 سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ عالمی ردعمل کے مطابق افغان طالبان کا یہ آئین اسلامی اصولوں اور انسانی اقدار سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت امریکا سے تجارتی خسارے کو حل کرنے کیلئے بات چیت چاہتی ہے: وزیر خزانہ
انسانی حقوق کی تنظیموں کی رائے
انسانی حقوق کی تنظیم ’’رواداری‘‘ کے مطابق ’’ماورائے عدالت قتل، خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کے ادارہ جاتی خطرات بڑھ گئے ہیں۔ دستاویز ظاہر کرتی ہے کہ افغان اشرافیہ کو عدالتی استثنیٰ حاصل جبکہ غریب طبقہ بدترین جبر کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دوستی کا اختتام: مدثر کے ساتھ اگر دوست دوست نہ رہے تو اس بریک اپ کا سامنا کیسے کریں؟
معاشرتی ساخت اور طالبان کا نظام
ماہرین کے مطابق ’’مبینہ آئینی مسودہ طبقاتی تقسیم سماجی انصاف کی صریح نفی اور انسانی مساوات پر کھلا حملہ ہے۔ طالبان کا نام نہاد ’’اسلامی نظام‘‘ کا دعویٰ عورتوں، اقلیتوں اور عام شہریوں کیلئے ظلم بن چکا ہے، یہ جدید دور میں غلامی کی ایک نئی شکل ہے۔
اشرافیہ، روحانی و بااثر طبقہ، متوسط اور نچلا طبقہ، جو بالکل ہندو ذات پات کے نظام (براہمن، وشیا، کیشتری، شودر) سے مشابہ محسوس ہوتا ہے۔ اس نام نہاد آئینی دستاویز پر بھارتی ہندوتوا نظریہ کی چھاپ واضح نظر آتی ہے، اس طبقاتی جبر کے باعث افغانستان دہشتگرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنتا جا رہا ہے۔
ماہرین کے تجزیے
ماہرین نے افغان طبقاتی نظام کو ہندو ذات پات سے مماثل قرار دیا، جہاں نچلا طبقہ عملاً اچھوت بنا دیا گیا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’طالبان کا نام نہاد آئین منظم امتیاز، ناانصافی اور ریاستی جبر کو قانونی تحفظ دیتا ہے، قانونی غلامی اور طبقاتی اور مذہبی امتیاز نافذ کر کے افغانستان عالمی انسانی حقوق کے معیار کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
افغان طالبان نے خواتین کی تعلیم، آزادی اور وقار پر پابندیاں لگا کر کم عمر لڑکیوں کی شادی کو جائز قرار دے دیا ہے۔ یہ آمریت افغانستان کو قرون وسطیٰ کی تاریکی اور غیر مستحکم ریاست میں دھکیل رہی ہے، غیر تربیت یافتہ طالبان اہلکار خود ساختہ قوانین نافذ کر کے ریاستی نظام کی جگہ اپنی عدالتیں قائم کر رہے ہیں۔ طالبان کے اختلافات اور بعض اہلکاروں کا داعش میں شمولیت خطے کے لیے ایک وقتی اور شدید خطرہ ہے۔ افغان طالبان رجیم کا مسلط کردہ نام نہاد آئین، جدید دور کی طبقاتی غلامی کا تحریری ثبوت ہے۔








