خواجہ آصف نے 18ویں آئینی ترمیم کو ڈھکوسلہ کہنے کی وجہ بتادی
خواجہ محمد آصف کا خطاب
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے 18ویں آئینی ترمیم کو ڈھکوسلہ قرار دینے کی وجہ واضح کی۔ الحمرا ہال لاہور میں تھنک فیسٹ کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ہم ناکام رہے، لہذا اس ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تفتان سے گاڑی ہندوستان کے سرحدی قصبے اٹاری تک آتی تھی وہاں سے اْسکو آگے بیناپول تک انڈین ریلوے کا انجن لیکر جاتا تھا
بلدیاتی نظام کی ضرورت
انہوں نے مزید کہا کہ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ میری سیاسی برادری لوکل گورنمنٹ سے اتنی خوفزدہ کیوں ہے۔ عوام کی فلاح کے لیے بلدیاتی نظام کو مزید بہتر بنانا ضروری ہے۔ وزیر دفاع نے وضاحت کی کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات دیے گئے ہیں، اور یہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: 200 یونٹ والی بدمعاشی ختم کریں؛ نعمان اعجاز بجلی کے بڑھتے نرخوں پر برہم
بیوروکریسی کا کردار
خواجہ محمد آصف نے یہ بھی بتایا کہ 18ویں ترمیم میں بلدیاتی نظام کا اہم جز شامل تھا۔ جب تک اختیارات نچلی سطح تک نہیں پہنچیں گے، ملک کی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیوروکریسی بلدیاتی اداروں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنا انتہائی ضروری ہے، اس سے ٹیکس کی وصولی میں بھی اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: قدرتی گیس کنکشنز کیلئے دی گئی 30 لاکھ سے زائد درخواستیں منسوخ
قوم کا مفاد اور نئے صوبے
خواجہ آصف نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر قومی مفاد میں فیصلے کرنے چاہئیں۔ نئے صوبے بنانا کوئی حرج نہیں بلکہ یہ بلدیاتی نظام کی ترقی کی نرسری کی طرح ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ساری دنیا نیو یارک کے میئر کو جانتی ہے، جب کہ حکومت اس کے خلاف تھی، لیکن وہ اپنے حمایتوں کے ساتھ جیت گیا۔
اختیارات کا نچلی سطح پر منتقل ہونا
وزیر دفاع نے یہ بھی ذکر کیا کہ 18ویں ترمیم میں بلدیاتی نظام اور قومی تعلیمی نصاب کی بات شامل تھی، مگر بعد میں اسے نکالنا پڑا۔ سیاست دانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انہیں اختیارات نچلی سطح پر دینا ہوں گے، اور کسی بھی سیاسی جماعت کو لوکل گورنمنٹ سے خوف محسوس نہیں کرنا چاہیے۔








