جیسے ہی بائیں گھومی میری چھٹی حس نے اشارہ دیا کچھ ہونے والا تھا، اس سے پہلے کہ دماغ میں آئے خطرے کو میں زبان پر لاتا زور کا دھماکہ ہوا

شہزاد احمد حمید کی تحریر

واقعہ کی ابتداء

قسط: 419
جیسے ہی بائیں گھومی میری چھٹی حس نے اشارہ دیا کچھ ہونے والا تھا۔ اس سے پہلے کہ دماغ میں آئے خطرے کو میں زبان پر لاتا زور کا دھماکہ ہوا اور جیپ نے ایک قلا بازی کھائی اور پھر کھاتی ہی چلی گئی۔ غالباً 3 قلا بازیاں لگیں اور جیپ سائیڈ ویز ہو گئی۔ ہر طرف دھول تھی اور جیپ کے پہیے ہوا میں گھوم رہے تھے۔

حواس بحال کرنا

چند سکینڈ بعد حواس و اوسان بحال ہوئے تو میں سیٹ بلٹ سے جیپ میں جھوم رہاتھا، میرے پاؤں ونڈ سکرین سے باہر تھے۔ میری ٹانگ میں قابل برداشت درد تھا۔ مڑ کر دیکھا تو عامر پچھلے دروازے سے لگا اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھ رہا تھا۔ باریش عبداللہ سٹرنگ کے ساتھ بلٹ سے بندھا سر پر ہاتھ رکھے تھا۔

اللہ کا شکر

جب تک میں جیپ سے باہر آتا اشفاق گل وغیرہ بھی دوسری جیپ میں پہنچ چکے تھے۔ سب کچھ آناً فاناً ہوا تھا۔ اللہ کا شکر کسی کو بھی کوئی چوٹ نہ آئی تھی بس معمولی خراشیں تھیں۔ اللہ نے کرم کر دیا تھا۔ کسی ان دیکھی دعا نے بچا لیا تھا البتہ جیپ کا کافی نقصان ہوا۔

جیپ ریلی کی تیاری

دراصل یہ جیپ ریلی کے لئے تیار کی گئی تھی جس میں لگی سیفٹی بارز نے ہمیں محفوظ رکھا تھا۔ ڈیرے پہنچ کر میں نے عبداللہ سے پوچھا؛ ”آپ کرنا کیا چاہ رہے تھے؟“ اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتا عامر بول پڑا؛ ”سر! یہ سپیڈ سے تو کوئی تھرل پیدا نہیں کر سکے تھے لہٰذا انہوں نے جیپ کی قلا بازی لگا کر ہمیں اپنی expert driving سے سنسنی دکھانے کی کوشش کی تھی بس۔“

حادثے کی وضاحت

(میں اور عامر اکثر بہاول پور سے لاہور آتے جاتے 150 کلومیٹر کی رفتار سے ہی اپنی سرکاری جیپ چلایا کرتے تھے۔) یہ سن کے عبداللہ بولا؛ ”نہیں سر! ایسی بات نہیں۔ میں اس سپیڈ پر 8 کا ہندسہ بنانا چاہ رہا تھا۔ پہلے بھی کئی بار ایسا کر چکا ہوں لیکن شاید کم سپیڈ پر۔ آج کہیں غلطی ہو گئی۔“

رات کا سفر

میں نے جواب دیا؛ ”آپ پہلے 80/90 کی سپیڈ پر کرتے ہوں گے آج بہت تیز تھے۔ اس رفتار پر الٹنا ہی تھا۔“ اشفاق گل کہنے لگے؛ ”سر! ڈیرے پر ہمیں زور دار آواز سنائی دی اور لائیٹس آسمان کی طرف۔ ہم سمجھے جیپ کو حادثہ ہوا ہے۔ اللہ نے کرم کر دیا کوئی نقصان نہیں ہوا۔“ بہرحال رات 11 بجے کے قریب وہاں سے بہاول پور کے لئے روانہ ہوئے تو سچ بات تھی موت کو قریب سے دیکھ آئے تھے۔

برگر بوائے کا دورہ

فروری 2013ء میں میری دعوت پر ندیم اسلم ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ پنجاب (بعد میں یہ چیف سیکرٹری خیبر پختون خوا بھی رہے۔) پیدائش اور اموات کی شرح بہتر بنانے کے ایک منصوبے کے افتتاح کے لئے بہاول پور دورے پر آئے۔ نجیب اسلم ڈائریکٹر (سی ڈی) ہیڈ کوارٹرز (سمجھ دار، محنتی افسر تھا۔ بعد میں ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اکیڈمی لالہ موسیٰ رہا اور وہیں سے ریٹائر ہوا۔) بھی ان کے ہمراہ تھے۔

منصوبے کی اہمیت

بہاول پور میں پیدائش اور اموات اندارج کی شرح تقریباً 28 فی صد تھی اور بلک کی نظر میں اس کی کوئی خاص اہمیت نہ تھی۔ اس منصوبے کے تحت ہم 1 ماہ تا 5 سال تک کی عمر کے بچوں کا اندراج مفت اور لوگوں کے گھر پر جا کر کرنا چاہتے تھے۔ لڑکیوں کے اندراج کی شرح تو حیران کن تک کم تھی۔

منصوبے کا افتتاح

کمشنر بہاول پور اور ڈی جی لوکل گورنمنٹ نے اس منصوبے کا افتتاح کیا اور ہم نے اس 1 ماہ میں تقریباً 3 لاکھ بچوں کا مفت اندراج کیا تھا۔ اس میں اقلیت خاص طور پر ہندو بچے بھی شامل تھے۔ (جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...