پولیس افسران کی اکثریت ایمانداری سے تفتیش نہیں کر سکتی نوکری خطرے میں ہوتی ہے، سیاستدان ایماندار افسران اپنے علاقے میں برداشت نہیں کر سکتے
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 287
اگر اس دوران مسیحی برادری نے مسلم شدت پسندوں کے ہاتھوں کچھ زخم کھائے ہیں تو مسلمانوں نے انہی مسلمان شدت پسندوں کے ہاتھوں ان سے کئی ہزار گنا زیادہ زخم کھائے ہیں۔ اِن مٹھی بھر شدت پسندوں کو چھوڑ کر جہاں تک عام مسلمانوں یا عام پاکستانیوں کا تعلق ہے، وہ تمام اہل وطن کو ان کی مذہبی وابستگیوں سے قطع نظر اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ مسلمان اور مسیحی یوں بھی اہل کتاب ہیں اور پاکستان میں ہر کہیں اور ہر جگہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ مصروف کار ہیں۔ عام حالات میں اِن کے درمیان نہ کوئی رنجش ہے اور نہ کوئی شکایت، نہ کوئی رقابت ہے اور نہ کوئی حسد، نہ کوئی مخالفت ہے اور نہ کوئی مخاصمت۔ ایک دوسرے کے لیے صرف ہمدردی ہے اور پیار ہے اور ایسا کیوں نہ ہو کیونکہ قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو مسیحیوں کے بارے میں بتایا ہے کہ ان میں بڑے بڑے نیک لوگ ہیں اور اہل کتاب میں مسیحی مسلمانوں کے قریب تر ہیں۔
پاکستان کے مسائل
فوجداری نظامِ انصاف میں اصلاحات کی ضرورت
سٹیزن کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام فوجداری نظام انصاف میں اصلاحات کے موضوع پر مذاکرہ تقریب منعقدہ 8 مارچ 2013ء سے خطاب کرتے ہوئے سابق انسپکٹر جنرل پولیس الطاف قمر نے کہا کہ فوجداری نظام کی خرابیوں کے اصل اسباب پولیس پر سیاسی دباؤ اور عوام کی طرف سے جھوٹ آمیز ایف۔ آئی آرز درج کروانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی طویل سرکاری ملازمت کے دوران ہزاروں ایف۔ آئی۔ آر دیکھی ہیں لیکن ان میں سے سو فیصد سچ پر مبنی ایف۔ آئی۔ آرز کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ ماہر وکلاء جھوٹ کی اس آمیزش کا عدالت میں پردہ چاک کر دیتے ہیں۔ اس طرح غلط طور پر جرم میں ملوث کئے گئے بے گناہ افراد کے ساتھ اصل مجرم بھی چھوٹ جاتے ہیں یا ان کو وہ سزا نہیں مل پاتی جس کے وہ درحقیقت حقدار ہوتے ہیں۔
سابق انسپکٹر جنرل الطاف قمر نے کچھ ایسے واقعات بھی بیان کیے جن میں حکومتی ممبران اسمبلی کے سیاسی دباؤ کے سبب اصل مجرموں کے بجائے سیاسی مخالفین کو قتل وغیرہ کے مقدمات میں ملوث کیا گیا اور جب پولیس نے اصل مجرموں کو پکڑ لیا تو ان سیاسی ممبران نے انہیں مجرم تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے عدالت میں پیش ہو کر انہیں بے گناہ تسلیم کر لیا۔ اس طرح اصل قاتل اور مجرم چھوٹ گئے لیکن بے گناہ سیاسی مخالفین کو سزا سنا دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست دان بڑے مقدمات میں عموماً پولیس پر دباؤ ڈالتے ہیں اور موجودہ صورت حال میں پولیس افسران کی اکثریت ایمانداری سے تفتیش نہیں کر سکتی کیونکہ ان کی نوکری خطرے میں ہوتی ہے۔
ایماندار پولیس آفیسر اس محکمے میں اب بھی خاصی تعداد میں موجود ہیں جو سیاسی دباؤ کی وجہ سے ہر روز پل صراط سے گزرتے ہیں۔ وہ سو سو مرتبہ مرتا ہے اور سو سو مرتبہ جیتا ہے۔ اس وجہ سے عدالتوں سمیت فوجداری انصاف کے تمام ادارے کمزور پڑ چکے ہیں اور حصول انصاف میں تاخیری حربے عام ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں حلفاً کہتا ہوں کہ اگر آج بھی پولیس میں اصلاح کر کے سیاسی سفارشات کی بنیاد پر بھرتی ہونے والوں کو نکال دیا جائے اور نئی تربیت یافتہ پولیس فورس کی کارکردگی کے سبب فوجداری نظام انصاف کے نقائص دور ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی پولیس اہلکار حلفاً عدالت میں بیان ریکارڈ کروائے اور بتائے کہ فلاں ممبر اسمبلی یا حکومتی عہدیدار نے کسی مقدمہ کے سلسلے میں اس پر سیاسی دباؤ ڈالا ہے تو اس بیان حلفی کی بنیاد پر ایسے ممبر کی نااہلی کے لیے قانون سازی ہونی چاہیے۔ دوسرا یہ کہ پولیس کمانڈ کسی وزارت کے بجائے مکمل طور پر آئی۔ جی پولیس کے ہاتھوں میں ہونی چاہیے۔ کراچی کے حالات پر صرف اسی لیے قابو نہیں پایا جا سکا کہ وہاں مکمل اختیار آئی۔ جی پولیس کے پاس نہیں ہے بلکہ حکومت اور سیاسی جماعتوں کا دباؤ انہیں غیر جانبداری سے مجرموں کی نشاندہی کی راہ میں حائل ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








