ملک بھر میں صرف 11 فیصد گھرانوں کا کچرا بلدیاتی ادارے اٹھاتے ہیں،فافن رپورٹ
پاکستان میں بلدیاتی اداروں کی کارکردگی
اسلام آباد(آ ئی این پی )پاکستان میں بلدیاتی ادارے صرف 11فیصد گھرانوں کا کچرا اٹھاتے ہیں،یہ بات فافن کی ملک میں صفائی سہولیات سے متعلق سروے رپورٹ برائے 2024-25 میں کہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کی روس کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کم کرنے کیلئے تعاون کی پیشکش
کچرا اٹھانے کی شرح میں کمی
رپورٹ کے مطابق 20189 میں کچرا اٹھانے کی شرح 20 فیصد تھی جو مزید کم ہو کر 11 فیصد رہ گئی، مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی سے صفائی کے نظام پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ آئین کا آرٹیکل 9 شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول کا حق دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علیزے شاہ نے اپنی ایک اور بولڈ ویڈیو جاری کردی
شہروں میں معیاری صفائی کا ضرورت
سروے کے مطابق شہروں میں معیاری صفائی کے لیے 75 فیصد کچرا جمع کیا جانا ضروری ہے، سندھ میونسپل کچرا اٹھانے میں سرفہرست ہے، مگر شرح 28 سے کم ہو کر 16 فیصد ہو گئی، پنجاب میونسپل کی جانب سے کچرا اٹھانے کی سہولت صرف 12 فیصد گھرانوں تک محدود ہے۔
علاقائی تفصیلات
فافن کے مطابق گزشتہ سروے میں پنجاب میونسپل میں 20 فیصد گھرانوں کو سہولت حاصل تھی، خیبرپختونخوا میونسپل میں صرف 6 فیصد گھرانوں کو بلدیاتی کچرا اٹھانے کی سہولت ہے، بلوچستان میونسپل میں صورتحال تشویشناک، صرف 1 فیصد گھرانوں کا کچرا بلدیاتی ادارے اٹھاتے ہیں۔








