سانحہ گل پلازہ، انسانی باقیات کا ڈی این اے ٹیسٹ اور فرانزک کہاں ہورہا ہے؟ ورثاء، سیاسی، مذہبی جماعتوں اور تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے، فاروق ستار
سانحہ گل پلازہ کی تحقیقاتی طلب
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار کا کہنا ہے کہ سانحہ گل پلازہ سے ملنے والی انسانی باقیات کا ڈی این اے ٹیسٹ اور فرانزک کہاں ہو رہا ہے؟ ورثاء، سیاسی، مذہبی جماعتوں اور تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کی لاگت میں ایک کھرب سے زائد کا اضافہ ہوگیا
یک خاندان کے چار افراد کی نماز جنازہ
دہلی کالونی میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ ایک المناک قومی سانحہ ہے جس میں 100 سے زیادہ قیمتی جانیں اور اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پورا ملک اس سانحہ پر سوگوار ہے، ہر آنکھ اشک بار ہے۔ آج یہاں سے 4 جنازے اٹھے ہیں، جبکہ اس کالونی میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد شہید ہوئے، 4 کا جسد خاکی ڈی این اے سے میچ ہوگیا ہے اور 2 باقی ہیں؛ ایک بیٹی بچی ہے اور پورا خاندان شہید ہوگیا، شادی کے گھر کی خوشیاں خاک میں مل گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پرویز الٰہی سے متعلق درخواست دائر کرنے پر نیب لاہور کو 2 لاکھ جرمانہ کرنے کا فیصلہ جاری
ڈی این اے ٹیسٹ اور فرانزک کی تحفظات
انہوں نے کہا کہ یہ بتایا جائے کہ ٹیسٹ اور فرانزک کہاں ہورہا ہے؟ باقیات کا احترام اور تقدس کے ساتھ فارنزک ٹیسٹ کیا جائے۔ لواحقین صرف یہ چاہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور میئر کراچی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کو اعتماد میں لیں اور لاپتا افراد کے اہل خانہ کو مطمئن کریں۔ گنتی پوری کیے بغیر سکون نہیں ملے گا اور اہل خانہ لواحقین کے لیے صبر کی دعا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کے لیے چین کی جانب سے امدادی سامان کے 2 طیارے پاکستان پہنچ گئے
غفلت اور تحفظات کا اظہار
فاروق ستار نے کہا کہ ایک دکان سے 30 لاشیں مل سکتی ہیں تو یہ رش کا وقت تھا، بہت سے لوگوں کی رجسٹریشن نہیں ہوئی۔ اندرون ملک سے آنے والے محنت کشوں کے لواحقین کو تو معلوم بھی نہیں ہوگا۔ 2 ٹرکوں کی باقیات کا چوری ہونا تشویش ناک ہے۔ بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب دینا ہے۔ لاپتا افراد کے اہل خانہ کی تسلی کے لیے ضروری ہے کہ انہیں مطمئن کیا جائے، ان کی تسلی و تشفی کے لیے فرانزک کی ویڈیو سامنے لائی جائے۔ باقیات کی تصدیق اور جسد اہل خانہ تک پہنچانے کے کام میں تیزی لائی جائے۔ جیسا کہ گورنر ہاؤس میں رابطہ مرکز بنایا گیا ہے، اس طرح وزیراعلیٰ اور میئر کے دفتر میں بھی مراکز قائم کریں۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے نہیں پتہ کس کو کتنا نقصان ہوا، یہ صرف اسلام آباد کے ڈرائنگ رومزکی گفتگو تھی، مفتاح اسماعیل کی وضاحت
تحقیقات کی ضرورت اور مطالبات
ان کا کہنا تھا کہ کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں اور وہ کیسے رپورٹ دیں گے کہ حکومت سندھ یا بلدیاتی اداروں کی غفلت ہے؟ تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جائے، آئی ایس آئی اور ایف آئی اے پر مشتمل آزاد اور غیر جانب دار کمیشن سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں قائم کیا جائے۔ کمشنر کی سربراہی کی تحقیقات کو کوئی نہیں مانے گا۔
مسئلہ کی سنجیدگی اور عوامی مطالبے
ان کا کہنا تھا کہ یہ سنگین معاملہ ہے۔ میری، عبدالستار افغانی یا نعمت اللّہ صاحب کی میئرشپ کے دور میں ریگولر ایڈیشن قانونی ہوئیں۔ اگر کوئی غیر قانونی عمل ہو تو احتساب کے لیے خود کو پیش کرتا ہوں۔ مگر آپ جواب دیں، آگ کیوں نہ بجھائی گئی؟ عوام سزا نہیں دے سکتے، ہوسکتا ہے کہ شفاف تحقیقات سے آپ سدھر جائیں۔ فائر فائٹرز کی جانوں کو بچایا جائے۔ فائر فائٹر فرقان کے گھر وزیراعلیٰ اور میئر کیوں نہ گئے؟ جو لوگ فرقان کے گھر نہیں گئے، انہیں جانا چاہیے۔








