بجلی چوری کیخلاف ملک گیر مہم کے کیا نتائج سامنے آئے ۔۔؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں
بجلی چوری کے خلاف ملک گیر مہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)بجلی چوری کیخلاف ملک گیر مہم کے کیا نتائج سامنے آئے ۔۔؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں ۔
یہ بھی پڑھیں: تو ہے کیا چیز، تو باہر مل: بھارتی عدالت میں ملزم کی خاتون جج کو دھمکیاں، ہنگامہ
مہم کے نتائج
تفصیلات کے مطابق گزشتہ مالی سال 2024-25 کے دوران بجلی چوری کے خلاف ملک گیر مہم میں 44,000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا اور 184,911 فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آرز) درج کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: کابینہ نے آئینی ترمیم سے متعلق کس کے مسودے کی منظوری دی؟ مصدق ملک نے بتا دیا
چوری شدہ یونٹس کی نشاندہی
حکام کے مطابق سراغ رساں ٹیموں نے 271 ملین چوری شدہ (MKwH) یونٹس کی نشاندہی کی گئی اور صارفین کو 11.4 ارب روپے کے بل جاری کیے گئے جبکہ مہم کے دوران 5.7 ارب کی وصولی ہوئی ہے۔ نیپرا کے اہداف سے زیادہ نقصانات کا مالی بوجھ صارفین پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: روس کی بھارت کے مغرب نواز اتحادوں میں شامل ہونے پر سخت تنقید
تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات
بجلی چوری کے خاتمہ کی مہم کے باوجود بجلی کی 10 تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے مجموعی لائن لاسز اوسطاً 17.23 فیصد رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ادھم پور ایئر فیلڈ کو تباہ کرنے کی وجہ بھی سامنے آ گئی
اہم وجوہات
’’اے پی پی‘‘ کے مطابق جن اہم وجوہات کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں غیر قانونی کنکشن، میٹر میں چھیڑ چھاڑ، زیادہ ٹیرف، امن و امان کے مسائل اور عمر رسیدہ انفراسٹرکچر شامل ہیں۔
نقصانات کا تفصیل
ڈسکوز کے نقصانات مختلف رہے ہیں جن میں سیپکو (39.12 فیصد)، کیسکو (38.42 فیصد) اور پیسکو کے نقصانات (36.76 فیصد) رہے جبکہ ٹیسکو نے سب سے کم 8.29 فیصد اور آئیسکونے 8.39 فیصد پر اپنے نقصانات کو برقرار رکھا۔








