بجلی چوری کیخلاف ملک گیر مہم کے کیا نتائج سامنے آئے ۔۔؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں
بجلی چوری کے خلاف ملک گیر مہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)بجلی چوری کیخلاف ملک گیر مہم کے کیا نتائج سامنے آئے ۔۔؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں ۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں حکومت مخالف مظاہرے بے قابو، ہسپتالوں اور مساجد کو نقصان، 217 افراد ہلاک
مہم کے نتائج
تفصیلات کے مطابق گزشتہ مالی سال 2024-25 کے دوران بجلی چوری کے خلاف ملک گیر مہم میں 44,000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا اور 184,911 فرسٹ انفارمیشن رپورٹس (ایف آئی آرز) درج کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیانی اور منڈل سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کا منہ توڑ جواب، دشمن کو خاموش کروا دیا گیا
چوری شدہ یونٹس کی نشاندہی
حکام کے مطابق سراغ رساں ٹیموں نے 271 ملین چوری شدہ (MKwH) یونٹس کی نشاندہی کی گئی اور صارفین کو 11.4 ارب روپے کے بل جاری کیے گئے جبکہ مہم کے دوران 5.7 ارب کی وصولی ہوئی ہے۔ نیپرا کے اہداف سے زیادہ نقصانات کا مالی بوجھ صارفین پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: کاروبار ٹیکس نظام میں 662 ارب روپے سے زائد کا ’بلیک ہول‘، ایف بی آر کی کارکردگی پر سوالیہ نشان
تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات
بجلی چوری کے خاتمہ کی مہم کے باوجود بجلی کی 10 تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے مجموعی لائن لاسز اوسطاً 17.23 فیصد رہے۔
یہ بھی پڑھیں: سکالر شپ پروگرام،وزیراعلیٰ مریم نواز دوسرے فیزکا آغاز کریں گی،کتنی عمر کے طلباء اہل ہونگے ؟ جانیے
اہم وجوہات
’’اے پی پی‘‘ کے مطابق جن اہم وجوہات کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں غیر قانونی کنکشن، میٹر میں چھیڑ چھاڑ، زیادہ ٹیرف، امن و امان کے مسائل اور عمر رسیدہ انفراسٹرکچر شامل ہیں۔
نقصانات کا تفصیل
ڈسکوز کے نقصانات مختلف رہے ہیں جن میں سیپکو (39.12 فیصد)، کیسکو (38.42 فیصد) اور پیسکو کے نقصانات (36.76 فیصد) رہے جبکہ ٹیسکو نے سب سے کم 8.29 فیصد اور آئیسکونے 8.39 فیصد پر اپنے نقصانات کو برقرار رکھا۔








