نقل مکانی اور آپریشن کا ملبہ صوبائی حکومت پر ڈالنے کی وفاقی حکومت کی کوشش ناکام ہو چکی، سب جان چکے ہیں کہ اصل حقیقت کیا ہے، شفیع جان
پشاور کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کا ردعمل
خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے تیراہ آپریشن کے حوالے سے وفاقی حکومت کے بیان پر واضح کیا کہ لوگوں کی نقل مکانی اور آپریشن کا ملبہ صوبائی حکومت پر ڈالنے کی وفاقی حکومت کی کوشش ناکام ہو چکی ہے۔ سب جان چکے ہیں کہ اصل حقیقت کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: درگاہ اجمیر شریف: غریب نواز کی آخری آرام گاہ جہاں دنیا بھر سے رہنماؤں کی آمد ہوتی ہے
وفاقی حکومت کے بے بنیاد دعوے
معاون خصوصی نے کہا کہ وفاقی حکومت کے دعوے بے بنیاد ہیں اور یہ عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ پوری قوم جان چکی ہے کہ وادی تیراہ سے لوگ آپریشن کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہیں، اور یہ حقیقت قومی اسمبلی میں خواجہ آصف اور طلال چودھری کی تقاریر سے بھی عیاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طالبان حکومت سے 13 لوگ عراق کے ذریعہ بھارت سے متواتر کیش وصول کر رہے ہیں، حنیف عباسی کا دعویٰ
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا موقف
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وادی تیراہ آپریشن کے حوالے سے اپنا موقف بار بار واضح کیا ہے، اور صوبائی اسمبلی کے امن جرگہ میں تمام سیاسی جماعتوں نے بھی آپریشن کی مخالفت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اسرائیل کو روکے، انسانیت کا امن مشرق وسطیٰ کے امن سے مشروط ہے: حافظ نعیم الرحمان
وفاقی حکومت کی تسلی بخش اقدامات کی کمی
شفیع جان نے زور دیا کہ وفاقی حکومت کو صوبائی حکومت، سیاسی جماعتوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا تاکہ متاثرین کی حالت بہتر طریقے سے سنبھالی جا سکے۔ وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والوں کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے چار ارب روپے کے ریلیف فنڈز جاری کیے گئے، لیکن وفاقی حکومت کا بیان انتہائی مضحکہ خیز اور غیر سنجیدہ ہے۔
متاثرین کی صورتحال پر سوالات
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا زبردستی نقل مکانی پر مجبور ہونے والے متاثرین کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا جائے؟ صوبائی حکومت نے متاثرین کو ریلیف کی فراہمی کے لیے بروقت اقدامات کیے، لیکن وفاق کی بے حسی افسوسناک ہے۔ وفاقی حکومت ایک طرف صوبے پر سخت فیصلے مسلط کر رہی ہے اور دوسری طرف مشکل وقت میں متاثرین کو تنہا چھوڑ رہی ہے، جو کسی بھی جمہوری اور انسانی اصول کے خلاف ہے۔








